30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ردالمحتار اقول:ولابد منہ فان کل مرتبۃ للطلب فی جانب الفعل فان بازائھا مرتبۃ فی جانب الترك فالتحریم فی مقابلۃ الفرض فی الرتبۃ وکراھۃ التحریم فی رتبۃ الواجب،والتنزیہ فی رتبۃ المندوب،کما فی ردالمحتار من بحث اوقات الصّلٰوۃ و قد بقیت السنۃ،وھی فوق المندوب ودون الواجب فوجب ان یقابلھا ماھو فوق کراھۃ التنزیہ دون التحریم وھو الاسائۃ وقد نصوا علیھا فی غیر مافرع وان اغفلھا کثیرون فی ذکرالاقسام فلیحفظ قال فی الدر ترك السنۃ لایوجب فسادا ولاسھوا بل اساءۃ لو عامدا غیرمستحب [1]الخ وفی ردالمحتار عن التحریر تارکھا ای السنۃ لیستوجبہ اساءۃ ای التضلیل واللوم[2]۔ |
ردالمحتار میں،اقول:(میں کہتا ہوں)یہ ضروری ہے کیونکہ فعل میں طلب کا جو مرتبہ ہے اس کے مقابلہ میں ترك کا مرتبہ ہے،تحریم کا رتبہ بمقابلہ فرض اور مکروہ تحریمی کا بمقابلہ واجب اور مکروہ تنزیہہ بمقابلہ مندوب ہے جیسا کہ ردالمحتار میں نماز کے اوقات کی بحث میں ہے جبکہ سنت کا رتبہ باقی ہے اور وہ مندوب سے فائق اور واجب سے پست ہے تو ضروری ہے کہ اس کے مقابلہ میں حکم مکروہ تنزیہہ سے فائق اور مکروہ تحریمہ سے کم ہو اور یہ مرتبہ اساءت ہے، فقہاء نے اس بحث پر کئی فروعات میں نص فرمائی ہے اگرچہ حکم کے اقسام سے بہت سے لوگوں سے غفلت ہوئی ہے، اس کو محفوظ کرو،درمختار میں فرمایا سنت کے ترك سے فساد کا حکم نہ ہوگا اور نہ ہی سہو کا،بلکہ اساءت کاحکم ہوگا جب غیرمستحب کو قصدًا کرے الخ۔ردالمحتار میں تحریر کے حوالہ سے ہے کہ سنت کا تارك اساءت یعنی ملامت وتضلیل کامستحق ہوگا۔(ت) |
مثلًا اپنے سے اعلم کے ہوتے ہوئے عہدہ قضاء کی نوکری جبکہ وہ اس پرراضی ہو،
|
وھو فی الدرالمختار لوقدموا غیرالاولٰی اساؤ ابلا اثم[3]،فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ اساء وااذترکوا السنۃ لکن لایاثمون لانھم |
درمختار میں ہے اگرلوگ غیراولٰی شخص کو امام بنائیں تو اساءت کے مستحق ہوں گے گنہگار نہ ہوں گے۔ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے منقول ہے اساءت والے ہوں گے جب وہ سنت کو ترك کریں گنہگار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع