30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۹۵: ازدارجلنگ انجمن اسلامیہ مسئولہ ولی الحسن مدرس مدرسہ ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
علمائے اسلام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ افیون کی تجارت اور اس کی دکان کرناشرعًا جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
افیون کی تجارت دواکے لئے جائز اور افیونی کے ہاتھ بیچنا ناجائزہے،
|
لان المعصیۃ تقوم بعینہ وکل ماکان کذٰلك کرہ بیعہ کما فی تنویرالابصار۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس لئے کہ گناہ ذات شیئ کے ساتھ قائم ہے اور جس میں اس طرح ہو تو اس کا بیچنا مکروہ ہے جیسا کہ تنویرالابصار میں مذکور ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۹۶: ازپیلی بھیت کچہری کلکٹری مسئولہ عرفان علی صاحب رضوی شب ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
قبلہ جانم وکعبہ ایمانم ظلہم الاقدس،بعد سلام مسنون عرض ہے کہ زندگی کا بیمہ کرنا شرعًا جائزہے یاحرام؟
صورت اس کی یہ ہے جو شخص زندگی کابیمہ کراناچاہتاہے اس سے یہ قرار پاجاتاہے کہ ۵۵سال یا ۶۰ سال یا۵۰سال کی عمر تك مبلغ دوہزار روپے(للعہ یاے/)ماہوار کے حساب سے تنخواہ سے وضع ہوتے رہیں گے اگر وہ شخص ۵۵سال تك زندہ رہا تو خود اس کو اور اگر مقررمیعاد کے اندرمرگیا توا س کے ورثاء کو دوہزار یکمشت ملے گا خواہ وہ بیمہ کرانے کے بعد اوراس کی منظوری آنے کے فورًا ہی مرجائے اور اگرمیعاد مقرر تك زندہ رہا تو بھی وہی دوہزار ملے گا یہ بیمہ گورنمنٹ کی جانب سے ہورہاہے کسی کمپنی وغیرہ کو اس سے تعلق نہیں۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ یہ بیمہ گورنمنٹ کرتی ہے اوران میں اپنے نقصان کی کوئی صورت نہیں توجائزہے کوئی حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے سبب اس کے ذمے کسی خلافِ شرع احتیاط کی پابندی نہ عائد ہوتی ہو جیسے روزوں یاحج کی ممانعت۔واﷲ تعالٰی اعلم
____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع