30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)مخفی نہ رہے کہ بنبئ اور کرانچی دونوں جگہ سے حاجی روانہ ہوتے ہیں اور ان دونوں مقاموں میں ایك اسلامی کمپنی موجود ہے اور یہ کمپنی ایك طرف کا ٹکٹ حاجیوں کو دیتی ہے انگریزی کمپنی سے بہت کم بھاؤ میں۔ایسا ہوتے ہوئے بھی حاجی آنے جانے کا ٹکٹ لے تو تعاون ہے یانہیں،حاجی کچھ مواخذہ دار ہوگا یانہیں؟
(۴)یہ بھی ہوسکتاہے کہ جب حاجی چاہیں کہ ہم دوہرا کرایہ دے کر اپنے روپیہ سے غیرمذہب کو مدد نہیں دیں گے اور ایك طرف کا ٹکٹ لیں گے تو گورنمنٹ کمپنی پرضرور ہے کہ حکم کرے گی کہ ایك طرف کا ٹکٹ دو۔اس صورت میں اُوپر کے سوال میں حاجی بری ہوسکتے ہیں یانہیں،اور ایسا کرنا ثواب ہے یاگناہ؟
(۵)دیگر یہ کہ اکثر حاجی اثنائے سفر میں فوت ہوجاتے ہیں اور اُن کا کوئی وارث ہمراہ نہ ہو تو ضرور ان کے واپسی کے ٹکٹ ضائع ہوجاتے ہیں اور اس ٹکٹ کا روپیہ بے سبب ایك کمپنی کھاجاتی ہے اگر وہی روپیہ حاجی کے ساتھ حاجی کی کمر میں ہو اور وہ فوت ہوجائے تو ضرور اس کا روپیہ اس کے ہمراہیوں کو ملے گا یا مکہ معظمہ میں فوت ہوجائے تو کسی معلم کو ملے گا یاراستے میں فوت ہوجائے تو کسی بدوی کو ملے گا جوتینوں بھائی مسلمان ہوں گے ایسی صورت میں حاجی کو ثواب ہوگا یا اوپر کی صورت میں؟
(۶)اور ظلم یہ ہے کہ کمپنی نے ٹکٹ پر چھاپ دیا ہے کہ حاجی کو اگر واپس کرنا ہو تو دس سیکڑہ کاٹ کر حاجی کو روپیہ ملے گا،یہ قانون ہے کہ امانت رکھنے والا اپنی امانت واپس مانگے تو کمیشن میں سُود دے یہ دوہرا سُود ہوا یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب:
(۱)حاجی نہ اپنی خوشی سے جمع کرتاہے نہ اس کی یہ نیت ہے کہ کمپنی سُود لے،اگر لے گی تو اس کا وبال اس پر ہے حاجی پرالزام نہیں،
|
" وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ"[1] وتحلل فعل فاعل مختار یقطع النسبۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔فاعل مختار کافعل درمیان میں آڑے آگیاجو نسبت کو قطع کردیتاہے،جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں مذکورہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع