30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۸۴ تا ۲۸۶: ازپیلی بھیت محلہ شیر محمد مکان نمبری ۲۹۴ مسئولہ لطافت حسین خان صاحب ۳رجب ۱۳۳۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ رشوت کس کو کہتے ہیں؟ اور اس کا لینا کیسا ہے؟ اور کس صورت میں لیناجائز ہے ا ور کس میں ناجائز؟
(۲)تسبیح کس چیز کی ہونی چاہئے؟ آیا لکڑی کی یا پتھر وغیرہ کی؟
(۳)مسجد میں جمعہ کے وقت خطبہ کے وقت سلام وکلام کیساہے؟
الجواب:
(۱)رشوت لینا مطلقًا حرام ہے کسی حالت میں جائزنہیں جو پرایا حق دبانے کے لئے دیاجائے رشوت ہے یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیاجائے رشوت ہے لیکن اپنے اُوپر سے دفع ظلم کے لئے جو کچھ دیاجائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔
(۲)تسبیح لکڑی کی ہو یا پتھر کی مگر بیش قیمت ہونامکروہ ہے اور سونے چاندی کی حرام۔
(۳)خطبہ کے وقت سلام وکلام مطلقًا حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۷: ازدہلی مدرسہ نعمانیہ فراشخانہ مسئولہ محمدحبیب اﷲ صاحب ۲۷شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافروں کی خصوصًا انگریزوں کی فوج میں نوکری کرنا جس کی وجہ سے مسلمانوں خصوصًا ترکوں اور عربوں اور افغانوں کے مقابلہ میں ان سپاہیوں کو جانا پڑتاہے اور مسلمانوں کو قتل کرناپڑتاہے،آیا یہ نوکری جائزہے یاحرام یاکفر ہے۔بیّنواتوجروا
الجواب:
مسلمان تو مسلمان،بلاوجہ شرعی کسی کافر،ذمّی یامستامن کے قتل کی نوکری،کافر توکافر،کسی مسلمان بادشاہ کے یہاں کی شرعًا حلال نہیں ہوسکتی بلکہ ذمّی پر ظلم مسلمان پہ ظلم سے اشد ہے کما فی الخانیۃ والدروالھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ خانیہ،در اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت) حدیث میں ہے:
|
من اٰذی ذمیا فانا خصمہ ومن کنت خصمہ خصمتہ یوم القٰیمۃ[1]رواہ الخطیب عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ |
جس نے کسی ذمی کافر کو ستایا تو میں اس سے جھگڑا کروں گا اور جس سے میں جھگڑا کروں تو قیامت کے دن جھگڑا کرنے میں غالب آؤں گا۔خطیب بغدادی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع