30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المسلم اذا کان بطریق الغدر فاذا لم یاخذ غدرًا فبای طریق یاخذہ حل بعد کونہ برضا بخلاف المستأمن منھم عندنا لان مالہ صار محظورا بالامان فاذا اخذہ بغیر الطریق المشروعۃ یکون غدرا الا انہ لایخفی انہ انما یقتضی حل مباشرۃ العقد اذا کانت الزیادۃ ینالھا المسلم و قدالتزم الا صحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا والقمار اذا حصلت الزیادۃ للمسلم نظرا الی العلۃ وان کان الاطلاق الجواب خلافہ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم [1]۔ |
لہٰذا اس کا مال امن کی وجہ سے دوسروں کے لئے ممنوع ہے۔اگر شرعی طریقے کے بغیر لیا تو فریب کاری ہوگی،مگر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ یہ کام مباشرتِ عقد کو حلال ہونے کو چاہتاہے جبکہ اضافہ کسی مسلمان کو حاصل ہو،چنانچہ اصحاب نے درس میں یہ انتظام کیا ہے کہ ان کی مراد سود اور فتوے کے جواز سے یہ ہے کہ جب زیادت مسلمان کو حاصل ہوجائے علّت پر نظرکرتے ہوئے اگرچہ مطلق جواب اس کے خلاف ہے،اور اﷲ تعالٰی پاك و برتر سب سے زیادہ جانتا ہے۔(ت) |
مسئلہ ۲۸۳:ازجے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی حاجی محمد عبدالواجد علی خاں مسئولہ محمد حامد حسن قادری ۱۴/رمضان
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس زمانہ میں عام طور پر جو جیل خانہائے انگریزی یاجیل خانہائے ریاست ہائے ما تحت انگریزی میں جو طرح طرح کی اشیاء تیار ہوتی ہیں ان کاخرید کر استعمال کرناکیساہےخصوصًاجائےنمازیعنی مصلی وغیرہ خرید کر خود نماز پڑھنا یا ان کو مساجد میں بغرضِ نماز بھجوانا۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
احتراز چاہئے کہ اُن سے کام جبرًا لیاجاتاہے پھر بھی اگر اصل مال بائعوں کی ملك ہو تو حکم حرمت نہیں کہ ان کے منافع کا اتلاف اس شے کی ذات سے جُداہے ھذا ماظھر ولیراجع ولیحرر(یہی بات ظاہر ہوئی اور چاہئے کہ مراجعت کی جائے اور لکھا جائے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع