30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التصرف فیہ لنفسہ وقد عرف فی مسائل لا تحصٰی ان ھذا ھو سبیل المال الخبیث وبہ یبرؤعن عھدتہ آری اگر بزرمکسوب بزنا منقولے خواہ عقارے خرید وشرائی او نقد وعقد بزر حرام جمع نشد چنانکہ ہمیں اکثرست آنگاہ آں چیز مشری بر وحرام نبود کماھو قول الامام الکرخی وعلیہ الفتوی وقد فصلناہ غیر مرۃ فی فتاوٰنا،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس میں تصرف کرنے کے گناہ سے بچے،اور بے شمار مسائل میں معلوم ہوا کہ مال خبیث سے نجات کا یہی طریقہ ہے۔ لہٰذا اسی طریقے کی بنا پر وہ اس کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتاہے،ہاں اگر وہ بکاری میں حاصل کردہ رقم سے کوئی منقول چیز خواہ زمین ہی ہو خریدے اور اس ی خرید میں عقد و نقد میں زر حرام جمع نہ ہوئی جیسا کہ اکثر یہی طریقہ ہوا کرتاہے،تو پھر وہ خرید کردہ چیز حرام نہ ہوگی۔چنانچہ امام کرخی علیہ الرحمۃ کا یہی ارشاد ہے اور اسی پر فتوٰی ہے،اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں کئی مرتبہ اس کی تفصیل بیان کردی۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ ۲۸۲: ازمین پوری مسئولہ محمد مجیب اﷲ صاحب ومولوی حکیم محمد احمد صاحب علوی ۲۸جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج کل ایك عرصہ سے یہ بات رائج ہے کہ لوگ اپنی جان کابیمہ کراتے ہیں لہٰذا دریافت طلب یہ بات ہے کہ آیا جان کا بیمہ کرانا شرعًا جائزہے یانہیں؟ اس کی مثال مثلًا ایك شخص جس کی عمر تیس سال کی ہے تاریخ اجرأ پالیسی(سند)سے بیس سال تك مبلغ دوسوچھیالیس روپیہ چار آنہ سالانہ ادا کرنے کے بعد مبلغ پانچ ہزار روپیہ خود لے سکتاہے یا اس کے ورثا قبل از وقت موت واقع ہوجانے پر حاصل کرسکتے ہیں(عا للعہ ۴/)×۲۰ =(للعہمہ ۲۵ مما ۴۹ صہ عہ) = اصل رقم = ۰۰۔۴۹۲۵ روپیہ رقم جو ملے گی ۰۰ —— ۵۰۰۰ روپہ زائد = ۷۵ روپیہ۔اس کے علاوہ اس اصل روپیہ پر منافع بعوض استعمال روپیہ دیاجاتاہے۔یہ منافع اول بیمہ کنندگان یا بیمہ شدگان کو دیاجاتاہے جن کی مدت بیمہ اختتام کو پہنچتی ہے جس وقت کہ ان کا چندہ بحساب(للعہ /)فیصدی سوددرسود اس اصل رقم بیمہ کے برابر ہوجاتاہے اس منافع میں سے ۱۰ فی صدی کمپنی لیتی ہے اور ۹۰ فیصدی بیمہ کرنے والے کوملتاہے بہت توضیح وتشریح کے ساتھ تحریر فرمایاجائے کہ اس طرح روپیہ حاصل کرنا یا اپنا روپیہ اس کمپنی کو دینا شرعًا کیاحکم رکھتاہے؟ اﷲ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطافرمائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع