30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگریہ کہ اُس کے مذہب وعقیدہ کفر پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شك کرے تو البتہ کافر ہوجائے گا،بغیر ثبوت وجہ کفر کے مسلمان کو کافر کہنا سخت عظیم گناہ ہے بلکہ حدیث میں فرمایا کہ وہ کہنا اسی کہنے والے پر پلٹ آتاہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۱: ازضلع رنگپور ڈاك خانہ چلیماری مکتب اسلامیہ بنگالہ مسئولہ جناب عبدالصمد صاحب ۲۵جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ
|
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں کہ مال مکسوب اززنا(زانیہ خواہ ازقوم ہنود آیند یا رباباشد یا ازاہل اسلام)بعد از اسلام وتوبہ حلال ست یاحرام؟ بیّنوابابراھین الجیاد، توجروا من اﷲ الکریم الجوا۔ |
اے علمائے کرام،اﷲ تعالٰی تم پر رحم فرمائے،تمہارا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ جو مال بدکاری کی وجہ سے حاصل ہو۔ زانیہ خواہ ہندو قوم سے ہو یا سود خواہ مسلمانوں سے حاصل ہو اسلام لانے اور توبہ کرنے کے بعد کیا وہ مال حلال ہے یا حرام؟ عمدہ دلائل سے بیان فرماؤ اور اﷲ کریم وسخی سے اجروثواب پاؤ۔(ت) |
الجواب:
|
حرام ست ومثل مغصوب،فرض است کہ آنہمہ برفقراء تصدق کند تمامی توبہ اش ہمیں ست فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دینا لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ [1]اھ وکتبت علیہ فعدم جواز الاخذ من کسب المومسات اللاتی یبغین بفروجھن۔وفیھا |
مال مذکورحرام ہے،اور اس کی مثال چھِنے ہوئے مال ی طرح ہے،لہٰذا اس پرفرض ہے کہ اس سب مال کو محتاجوں پر خیرات کردے،لہٰذا اس کی توبہ کے مکمل ہونے کی یہی صورت ہے۔چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے روایت ہے کہ گویا عورت کی کمائی سے اگرقرض اداکیاجائے تو قرضخواہ کو اس کا لینا جائزنہیں اھ،میں نے اس پر یہ نوٹ لکھا(صاحب فتاوٰی مراد ہے) کیونکہ زانیہ عورتیں اپنی شرمگاہوں کے بدلے میں مال وصول کرتی ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع