30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روپیہ یاجائداد بعد قبضہ اپنی طرف سے اسے ہبہ کردے اور قبضہ تامہ دے دے تو وہ زر وجائداد اب اس کے حق میں حلال وطیب ہے اسے وقف وغیرہ جمیع امورِخیر میں صرف کرسکتی ہے۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر کسی کے پاس مشتبہ اور مشکوك مال ہو اور وہ اسے اپنے والد پر خیرات کردے تو اس کے لئے یہی کافی ہے،اور یہ شرط نہیں کہ کسی بیگانے پر خرچ کرے اور اسی طرح جب بیٹا والد کےساتھ اس کے کاروبار میں شریك ہو جبکہ اس کے کاروبار میں کئی فاسد سودے ہوں،پھر اس نے اپنا تمام مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے گا۔اور اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت) |
مسئلہ ۲۷۶: ازشہر محلہ قاضی ٹولہ بلند بیگ ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اپنی کوئی چیز طوائف کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہے یانہیں اور اجرت اس کے کپڑے سینا اور کوئی کام اس کا اجرت پر کرنا اور اس کے گانے وغیرہ کی چیزیں بنانا جائز ہے یا نہیں،یا اس کی آمدنی مسجد یا مدردسے میں لگانا جائز ہے یا نہیں جبکہ وہ جائداد کسب سے خرید کی گئی ہو۔بینوا توجروا۔
الجواب :
طوائف کے ہاتھ کسی چیز کا بیچنا یا جائز شے کا کرایہ پر دینا جائز ہے مگر اس کے زرحرام سے قیمت یا اجرت لینا حرام ہے،اور گانے کی چیز بنانے کاسائل مطلب بیان کرے اس کا جواب دیاجائے گا۔خریداری جائداد میں اگر زرحرام پرعقد ونقد جمع ہوئے یعنی زر حرام دکھاکرکہا کہ اس کے عوض دے دے،اور پھر وہی زرحرام ثمن میں دیاگیا تو وہ جائداد بھی خبیث اور اس کی آمدنی بھی خبیث،اور اس کا مسجد یامدرسہ میں لیناجائزنہیں،اگرعقد ونقد جمع نہ ہوئے جس طرح عام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع