30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اِلٰی مَیۡسَرَۃٍؕ"[1] |
تك مہلت دینی چاہئے۔(ت) |
اور اگر مدیون نادارہے جب تو اسے مہلت دینا فرض ہے یہاں تك کہ اس کا ہاتھ پہنچے اور جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع وملامت جائز۔
|
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطل الغنی ظلم،ولیّ الواجد یحل مالہ وعرضہ[2]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا (ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرناظلم ہے،اور پانے والے کا کترانا اورپہلوبچانا اس کے مال اور عزت کومباح کردیتا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۷۰: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ یہاں دستور ہمیشہ سے ہے کہ کسی کی تقریب شادی یاختنہ یا اور کوئی تقریب ہوئی تواعزا واقربا،دوست وآشنا کچھ نقد کچھ روٹی،دال،چاول،تیل،دہی،کپڑا وغیرہ لاتے ہیں جس کو نوید یانوتاکہتے ہیں جو پہلے بطور مددومعونت سمجھاجاتاتھا نہ ادا کرنے پر کوئی گرفت یا تقاضانہیں تھا لیکن اب ان تقریبوں میں میرے یہاں کوئی سامان نوید لائے اور میں کسی وجہ یابلاوجہ سامان نہ لے گیا اس پر بعد کو تقاضا ہوتا ہے شکایت ہوتی ہے کہ ہم اُن کے یہاں لے گئے وہ میرے یہاں نہ لائے ایسی حالت میں مجھ سے اگر ادانہ ہوسکے تو اس کے لئے قیامت میں پرسش ہوگی یانہیں؟ اس کا حق باقی رہا یانہیں؟ اور بغیرمعاف کئے ہوئے اُس کے معاف ہوسکتاہے یانہیں؟
الجواب:
اب جونیوتاجاتاہے وہ قرض ہے اس کا اداکرنالازم ہے اگررہ گیا تومطالبہ رہے گا اور بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگا والمسئلۃ فی الفتاوی الخیریۃ(اور یہ مسئلہ فتاوٰی خیریہ میں موجود ہے۔ت)چارہ کاریہ ہے کہ لانے والوں سے پہلے صاف کہہ دے کہ جو صاحب بطور امداد عنایت فرمائیں مضائقہ نہیں مجھ سے ممکن ہوا تواُن کی تقریب میں امداد کروں گا لیکن میں قرض لینانہیں چاہتا،اس کے بعد جو شخص دے گا وہ اس کے ذمّہ قرض نہ ہوگا ہدیہ ہے جس کا بدلہ ہوگیا فبہا،نہ ہوا تومطالبہ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع