30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
یہ ملعون پیشہ حرام قطعی ہے اگر اسے حلال جانے کافرہے کہ نصوص قرآنیہ کامنکرہے وقد ذکرناھا فی فتاوٰنا(اس کا ذکر ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردیاہے۔ت)جومال اس سے جمع ہوگا حرام حرام حرام مثل مال غصب ہوگا کہ ہندہ نہ اسے اپنے صرف میں لاسکے گی نہ اپنے پیرکے۔ہندہ صورتِ مذکورہ میں فاسقہ فاحشہ ہے اور جس نے اس کی اجازت دی اور اس ملعون کام سے سرمایہ جمع کرنے کوکہا وہ حرام کادلال فاسق فاجرضال ہے،عجب کہ سائل بزرگِ طریقت لکھتاہے،بزرگان طریقت شیطان خصلت نہیں ہوتے۔رہی سزاوتعزیر،وہ یہاں کون دے سکتاہے،واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۶: ازموضع بہار ضلع بریلی مرسلہ محمداسمٰعیل خاں صاحب ۲۲رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح عدت سے دومال پیشترہوا اس میں جو شاہد گواہ بنے ان کوجوکچھ ملاوہ کچھ تو اسی حصہ اس رقم کامسجد شریف میں دیناچاہتے ہیں تو صرفہ مسجد میں لگایاجائے کہ نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جو ہم کو نکاح میں ملاہے وہ مسجد کے خرچ کے واسطے لے لو۔بیّنواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگر اُن کو معلوم تھا کہ یہ نکاح عدّت کے اندرہواہے اور پھر شاھد بنے اور اس پرکچھ لیا تو وہ حرام ہے مسجد میں ہرگز نہ لیا جائے،اور اگرمعلوم نہ تھا اور شاہد بننے پراجرت لی جب بھی باطل ومردود ہے نہ لی جائے،اور اگرمعلوم نہ تھا نہ اجرت لی مگردینے والے نے بطورشاہد دیا کہ یہ وقت پر ہماری سی کہیں جب بھی وہ واقع میں ناجائزہے،شاہد ان کو چاہئے اُسے واپس دیں اور مسجد میں نہ لیاجائے،ہاں اگر یہ صورت ہوتی کہ شاہدوں کو لوگ کبھی کبھی بطور صلہ کچھ دیتے ہیں جس کی عادت نہیں اور اُسی صلے کے طورپر اُن کو دیاجائے اور انہیں نکاح عدّت میں نہ ہونے کی خبرہوتی توجائزہوتا اور مسجد میں لینا بھی جائزہوتا لیکن ظاہر ایسا ہوتا نہیں لہٰذا نہ لیاجائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: ازدیوگڑھ میواڑ راجپوتانہ مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود لینا باری تعالٰی نے حرام فرمایا جسے موافق فرمان خداوندی ہرشخص براجانتاہے اس طرح سود دینا بھی براجانتے ہیں لیکن ایساشخص جسے روپے کی سخت ضرورت ہے اور قرض حسنہ بھی آج کل کسی کو نہیں دیتا اور میواڑ کے مسلمانوں کی حالت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع