30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اصراف اخراجاتِ مسجدمیں صرف کرنادرست وجائزہے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
ایسی اشیاء اکثر قرض سے خریدتے ہیں جب تو ظاہر کہ وہ مال حلال ہے ورنہ عام خریداریوں میں عقد ونقد مال حرام پرجمع نہیں ہوتا یعنی یہ نہیں ہوتا کہ حرام روپیہ دکھاکر کہیں اس کے عوض دے دو پھر وہی روپیہ قیمت میں دے دیں،ایسی صورت میں بھی روپے کی خباثت اس شے میں سرایت نہیں کرتی کماھو مذھب الامام الکرخی المفتی بہ(جیسا کہ امام کرخی کامذہب ہے کہ جس پر فتوٰی دیاگیا۔ت)ان صورتوں میں اُس مکان کی آمدنی مسجد میں صرف ہوسکتی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۴: ازبریلی بازار شہامت گنج مسئولہ عاشق علی دکاندار ۲۶مؤجمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
علمائے دین کیافرماتے ہیں ایك شخص کی زمین ہے اُس میں ایك اور شخص رہتاہے عملہ اس کا خام ہے زمیندار زمین فروخت کرناچاہتاہے اور اہل محلہ چندہ کرکے خریدنا چاہتے ہیں اس لئے کہ اس مکان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتارہے جو شخص اس میں رہتاہے وہ مسجد کے لئے خریدنے سے ناراض ہے وہ چاہتاہے کہ میں خریدوں،وہ شخص مسلمان ہے،اس زمین کا خریدنا ہم اہل خیر کو جائزہے یااس شخص کو جائزہے؟
الجواب:
ظاہر ہے کہ اس شخص کومکان کی حاجت ہے کہ کرایہ کے مکان میں رہ رہاہے لہٰذا اس کا اپنے لئے چاہنا مذموم نہیں،اور اختیار مالك مکان کو ہے جس کے ہاتھ چاہے بیع کرے،اس میں کسی فریق پر کوئی الزام شرعی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵: ازکانپور محلہ ٹپکاپور متصل اسٹار پریس مرسلہ برکات احمدصاحب ۱۶۰ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ پیشہ کسب اور ناچ گانے کاکرتی تھی اس کوقدرتی طور پر میلان ہوا کہ پیشہ کسب یعنی زنا چھوڑدے چنانچہ اس نے اس سے توبہ کی پھر وہ ایك بزرگ طریقت زید سے مرید ہوگئی تاہم پیشہ ناچ گانے کا اب تك کرتی ہے پیرصاحب نے اس کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اس پیشہ کو اس وقت تك جب تك اس کے پاس ایك معقول سرمایہ جمع ہوجائے کرتی رہے ایسی حالت میں ہندہ اور اس کامرشد زیدکسی گناہ کے مرتکب ہیں اگر ہیں تو بروئے احکام شریعت اُن کی کیاسزاہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع