30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مال دینا سب حرام لانہ خبیث حصل بسبب خبیث(اس لئے کہ وہ ناپاك ہے کیونکہ ناپاك سبب سے حاصل ہواہے۔ت)
(۳)اگر وہ عالم خود ایك فریق تھا تو متقی کب ہوا،حرام کارہے،اور اسے کھائے تو حرام خور ہے۔اور اگر یہ کسی فریق میں نہ تھا اور جیتنے والے نے مال لے کر اسے دیا جب بھی حرام ہے کہ وہ مال مغصوب ہے جن سے لیاتھا فرض ہے کہ انہیں پھیرکردے نہ کہ دوسرے کو،اور اگر جیتنے والے نے مال لیا اور ہارنے والے کی اجازت سے عالم کو دیا تو عالم کے لئے حلال ہے کہ باجازت مالك ہے۔
(۴)اس کا حکم بیان سابق سے واضح ہے جیتنے والے کو حرام اور ثالث کو بھی بلااجازت مالك حرام،ان دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ اور باجازت مالك حلال ہے اور امامت میں مخل نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: ازشہر بریلی مسئولہ شوکت علی صاحب ۱۲/شوال ۱۳۳۷ھ
کیاحکم ہے اہلِ شریعت کا کہ ملازمت چونگی کی جائزہے یانہیں؟ اور حاکمِ وقت کو اس کا روپیہ تحصیلنا جائز ہے یانہیں،یہ روپیہ رعایا سے تحصیل کرکے رعایا ہی کی آسائش کے واسطے روشنی سڑك وغیرہ کے کام میں لگادیتے ہیں،اور چونگی کا محصول چرانا جائزہے یانہیں؟
الجواب:
نیك نیت سے چونگی کی نوکری تحصیل وصول کی جائزہے ہے نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الخ(درمختار وغیرہ بڑی کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی الخ۔ت)چوری یعنی دوسرے کامال معصوم بے اُس کے اذن کے اُس سے چھپا کرناحق لینا کسی کو بھی جائزنہیں اور نوکر کاخلاف قرارداد کرناعذرہے اورغدرمطلقًا حرام ہے نیز کسی قانونی جُرم کاارتکاب کرکے اپنے آپ کو بلاوجہ ذلت و بلاکے لئے پیش کرنا شرعًا بھی جرم ہے کما استفید من القراٰن المجید والحدیث(جیسا کہ قرآن مجید اور حدیث پاك سے معلوم ہوا۔ت)رہا یہ کہ حکام وقت کو اس کا تحصیلنا شرعًا کیساہے نہ حکام کو اس سے بحث ہے نہ سائل کو حاکم سے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: ازایگت پوری ضلع ناسك مرسلہ سعیدالدین صاحب ۱۱صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك طوائف نے اپنی ناپاك کمائی حرام کاری کے روپیہ سے ایك مکان خریدکیا اور اس کو بنام چنداشخاص سپرد کرکے لکھ دیا کہ اس مکان کی آمدنی مسجد کے اصراف میں خرچ کی جائے اور ان کو اس کا اختیار بیع ورہن حاصل نہیں کیا ایسے مکان کی آمدنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع