30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
حرام روپیہ کسی کام میں لگانا اصلًا جائزنہیں،نیك کام ہو یا اور،سوا اس کے کہ جس سے لیا اُسے واپس دے یافقیروں پرتصدّق کرے۔بغیر اس کے کوئی حیلہ اُس کے پاك کرنے کانہیں،اُسے خیرات کرکے جیساپاك مال پر ثواب ملتاہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام ہے،بلکہ فقہاء نے کفرلکھاہے۔ہاں وہ جو شرع نے حکم دیا کہ حقدار نہ ملے تو فقیر پرتصدّق کردے اس حکم کومانا تو اس پر ثواب کی امید کرسکتاہے مسجد مدرسہ وغیرہ میں بعینہ روپیہ نہیں لگایاجاتا بلکہ اس سے اشیاء خریدتے ہیں خریداری میں اگر یہ نہ ہوا کہ زرحرام دکھاکرکہا اس کے بدلے فلاں چیزدے اُس نے دی اُس نے قیمت میں زرِ حرام دیا تو جو چیز خریدیں وہ خبیث نہیں ہوتی،اس صورت میں فاتحہ وعرس کا کھانا جائزہے اور اکثریہی صورت ہے،مسجد میں نماز مدرسہ میں تحصیل علم جائزہے اور کنویں کاپانی تو ہرطرح جائزہے اگرچہ اس میں وہ نادر صورت پائی گئی ہو کہ خباثت آئی تواینٹوں مسالے میں نہ ہ زمین کے پانی میں۔وھوتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۱: ازبھیرہ ضلع شاہ پور محلہ پراچگان مسئولہ محمدرحیم پراچہ بابلی ۷/رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)کسی امر کے ثبوت یاعدمِ ثبوت پر مسلمین عاقلین کا طرفین سے شرط مالی لگانا حلال ہے یاحرام؟
(۲)طرفین سے ایك کا دعوٰی ثابت ہوجانے پرمطابق شرط دوسرے کی طرف آیاہوا مال کھانا حلال ہے یاحرام؟
(۳)ایك متقی عالمِ دین کا شرط کو حرام کہہ کر پھر اسی شرط کے مال سے کھالینا کیاحکم رکھتاہے؟
(۴)جس مال پرشرط لگائی گئی ہو اس کے استعمال کرنے والے کے پیچھے نماز جائزہے یانہیں؟بینوا جزاکم اللہ(بیان فرمائے اﷲ آپ کو جزا دے۔ت)۔
الجواب:
(۱)طرفین سے شرط بَدنا حرام ہے، تنویرالابصار میں ہے:
|
حل الجعل ان شرط المال من جانب واحد وحرم لو شرط من الجانبین[1]۔ |
انعام یافتہ مال حلال ہے اگرشرط ایك طرف سے ہو،اور حرام ہے اگرشرط دونوں طرف سے ہو۔(ت) |
(۲)جب طرفین سے شرط بَدی گئی تو جو جیتے اُسے مال لینا اور کھانا اور ہارنے والے کو اُسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع