30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
(۱)حدیث میں ہے:جو ایك درہم سُود کادانستہ کھائے گویا اس نے چھتیس بار اپنی ماں سے زناکیا [1]۔ایك درہم تقریبًا یہاں کے اٹھارہ پیسے کاہوتاہے تو فی دھیلا ایك بار ماں سے زناہوا۔
(۲)یوں ہی نری سخت مجبوری وناچاری شرعی کے سوا سود دینا بھی ویساہی حرام ہے،حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے سُود کھانے والے اور سُود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں سب پرلعنت فرمائی،اور فرمایا:وہ سب برابرہیں[2]۔
(۳)عورتوں کاراستوں میں یوں بے پردہ پھرناکہ سرکاکوئی بال یاگلے کاکچھ حصہ یاکلائی یا پنڈلی کاکھلا ہو یا کپڑے باریك ہوں کہ بال وغیرہ اعضاء مذکورہ میں سے کچھ چمکے(سینے یاپیٹ یا پیٹھ میں سے کچھ کھلا ہونا یاچمکنا تو اور بھی سخت ہے)یہ صورتیں حرام ہیں اور اُن عورتوں کے شوہر اگر اس پرراضی یاساکت ہیں یابقدرِ ضرورت بندوبست نہیں کرتے توسب دیّوث ہیں،اور حدیث میں ہے:دیّوث پرجنت حرام ہے[3]۔
یہ تینوں باتیں یا ان میں سے کوئی جس میں پائی جائے فاسق فاجر مستحق عذاب النارہے،دھڑے والا ہو یا سترا والا یاکوئی اور، اگر ان باتوں کی ممانعت کے باعث اس شخص تنہا سے بیزار ہیں تو اور اشد سے اشد گناہگار وسزاوارِ غضب جبّار ہیں،ان تین باتوں کا تو یہ جواب ہے،رہا کھانے کاجھگڑا،اُس میں ستراوالوں پرچار الزام ہیں:
[1] اللآلی المصنوعۃ کتاب المعاملات دارالکتاب العلمیۃ بیروت ۲ /۱۲۷ و۱۲۸،اتحاف السادۃ المتقین کتاب آفات اللسان الآفۃ الخامسۃ عشر دارالفکر بیروت ۷ /۳۵۳،الترغیب ولترھیب الترہیب من الربا حدیث ۱۲،۱۵ مصطفی البابی مصر ۳ /۶،۷،الموضوعات لابن جوزی باب تعظم امرالربا علی الزنا دارالفکر بیروت ۲ /۲۴۵،الکامل لابن عدی ترجمہ عبداﷲ بن کیسان دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۴۳، الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی الدنیا والبیہقی تحت آیۃ ۲ /۲۷۵ مکتبۃ آیۃ اﷲ العظیمی قم ایران ۱ /۳۶۴
[2] صحیح مسلم کتاب المساقات باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷
[3] مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۔۱۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع