30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانچ گوٹ والا،اور اسی نام سے یہ مشہور ہیں،ایك فریق سترا والے اور فریق ثانی دھڑے والے،بناءِ فساد یہ ہے کہ جب اُن میں اتفاق تھا اُس وقت میں شادی غمی کاکھانا وہ اس طرق سے پکتاتھا جس کے گھر خوشی ہوتی تو جملہ پنچ اس کے مکان پرجمع ہوتے ہیں اور دیگچی میں پانی بھر کر پنچوں کے بیچ میں رکھتے ہیں اور ایك برتن علیحدہ گرہ رکھتے ہیں پھر ایك آدمی انہیں سے اٹھ کر پنچوں سے اجازت کھانا پکانے کے واسطے گُڑ گلانے کی طلب کرتا اُن کی زبان میں کہتا(پنچاموکل)یعنی پنچ اجازت گُڑ گلانے کی دو،تو اس وقت پنچ جواب دیتے ہیں(بسم اﷲ)یعنی اجازت دی گئی۔اس وقت پانچ گوٹ والے جن کانام دھڑے والے ہے پانچ آدمی اُٹھ کر ایك ایك ڈلی گُڑ کی لے کر بسم اﷲ کہہ کر اس دیگچی میں ڈال دیتے ہیں،تب کام شروع ہوکر اختتام کو پہنچ جایاکرتاتھا۔یہ رسم قدامت سے باپ دادا کی قائم تھی،ستراوالوں کو حسد پیدا ہوا کہ دھڑے والے گڑگلائیں جب کھاناپکے اور یہ اپنا حق جتاتے ہیں کہ گڑ گلانا ہماراکام ہے تو ہم کو ایسا کھانا منظور نہیں ہے ہم دھڑے والوں سے علیحدہ ہی اچھے ہیں،اس سبب سے آپس میں دو فریق ایك ستراوالے اور دوسرے دھڑے والے ہوگئے۔دھڑے والوں نے تو اپنی رسمِ قدیم قائم رکھی کہ ہم بسم اﷲ کے ساتھ اس کام کو کرتے ہیں کوئی شرك کفر نہیں کرتے۔اور ستراوالوں نے رسمِ قدیم چھوڑکرنیا طریقہ اختیار کیا کہ جس کے یہاں کھانا وغیرہ پکے تو مالك کھڑا ہوکر اجازت کھانا پکانے کی مانگ لیتاہے اور وہ کھانا پکاکر کھالیتے ہیں،ستراوالے کے کھانے کو دھڑے والے نہیں کھاتے اور دھڑے والوں کا سترا والے،اور یہی باعث نفاق ہے،سترا والے کہتے ہیں کہ ہم رسمی کھانا نہیں کھاتے،شریعت سے منع ہے،اُس رسم کو چھوڑ کر اتنا ضرور ہوتاہے کہ جس کے یہاں کام ہوتاہے وہ پنچوں سے اجازت ضرور لیتا ہے۔اگر اور طریقہ سے کھانا پکایاجائے گاتوستراوالے بھی نہیں کھائیں گے،ان دونوں فریق میں سے ایك شخص تنہا اپنے مکان سے نکلا اس کا یہ کہنا کہ میں دونوں فریق کی رسم سے علیحدہ ہوں میں تو سنت رسول اﷲ کے موافق سب کو دلواکر پکواکر جو صاحب کھائیں میں کھلاؤں اور اسی طریق پر میں بھی کھاؤں اور بموجب شریعت عورت کو پردے میں رکھتاہوں اور بیوپار بھی اس طور پرکرتاہوں کہ سُود نہ لوں نہ دُوں بموجب شریعت کے کرتاہوں ستراوالوں اور دھڑے والوں کی عورتیں باہر پھرتی ہیں پردہ نہیں ہے میرے اس سنتِ رسول اﷲ پرچلنے سے فریقین بیزار ہیں اس واسطے دریافت کیاجاتاہے کہ جوابات علیحدہ علیحدہ مرحمت فرمایاجائے کہ ستراوالوں کے لئے ازروئے شرع شریف کیاحکم ہے اور دھڑے والوں کے واسطے کیاحکم ہے اور بےچارے تنہا کاجوشریعت پرچل رہاہے کیا حکم ہوتاہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع