30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرچہ وہ فقیر جس پر تصدّق کیا اس شخص کاجوان بیٹا یاباپ یابھائی یابہن یازوجہ یا اور کوئی قریب یابعید ہو بعد قبضہ وہ متصدق علیہ اپنی خوشی سے بعض یا کُل مال اسے واپس کردے یعنی اپنی طرف سے اسے ہبہ کرے یا اس پر تصدّق،تو وہ مال اب اس کے لئے طیب ہوجائے گا مطالبہ سے بھی اداہوا اورمال بھی پاك وحلال ملا۔ ہندیہ میں ہے:
|
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدّق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا،خرج من العھدۃ[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کسی کے پاس مشتبہ مال ہے،جب اسے اپنے والد پرخیرات کردے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔کسی اجنبی شخص پرصدقہ کرنا شرط نہیں۔اور اسی طرح جب اس کا بیٹا اس کے ساتھ ہو، جبکہ یہ شخص خریدوفروخت کرتاہو،اور اس کے کاروبار میں کچھ فاسد سودے ہوں تو یہ اپنا سارا مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردے تو اس صورت میں یہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۵۳: ازرنگون مرسلہ عبدالستار بن اسمٰعیل ۹/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنّت اس مسئلہ میں کہ اس شہر میں چندسال سے ایك قسم کی سواری جاری ہوئی ہے یعنی انگریزی ساکت کی ٹم ٹم شکل کا دو چکے والا ہلکا گاڑی ہوتاہے جسے انسان لے کر دوڑتے ہیں لوگ اُس گاڑی پرسوار ہوتے ہیں اور مناسب معاوضہ گاڑی لے کر دوڑنے والے کو دیتے ہیں غرض گاڑی میں جو کام جانور آتے وہی کام قریب قریب آدمی کرتے ہیں تو کیا اہلِ اسلام کو اس سواری پر سوار ہونا جائزہے یانہیں؟
الجواب:
وہ لوگ اپنی خوشی سے ایسا کرتے ہیں اوراس پر اُجرت لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں جیسے پالکی کے کہار،
|
وقد مرت محفۃ سیدنا شیخ الشیوخ السھروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ من العراق الی مکۃ المکرمۃ علی اعناق الرجال۔واﷲ سبحٰنہ اعلم۔ |
بے شك ہمارے سردار شیخ الشیوخ سہروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عراق سے لے کر مکہ مکرمہ تك لوگوں کی گردنوں پرسوار ہوکرگئے واﷲ سبحٰنہ اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع