30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۲۴۹: ازشہر محل باقرگنج مرسلہ عنایت خاں ۱۳/جمادی الاُخرٰی ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب کافروں کامیلہ دریاپرہوتاہے تو یہ پنڈتوں کو اپنے گھر سے دال چاول لے جاکر دیتے ہیں یعنی پُن کرتے ہیں،وہ لوگ اس کو جمع کرکے فروخت کرڈالتے ہیں دکانداروں کے ہاتھ،اور اُن دکانداروں سے ہم لوگ خریدتے ہیں اگر ہم خود اس پنڈت سے خرید لیں بازار سے کچھ زیادہ دی جائیں تو جائزہے یانہیں،اور اُن کو خرید کر اگرنیاز دلوائی جائے مثلًا حضرت پیرانِ پیر کی،جائزہے یانہیں؟
الجواب:
اُس اناج کابازار سے بھی خریدنا حلال،پنڈت سے بھی خریداری جائز،اس پرنیاز شریف بھی مباح۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰: ازجھالراپائن راجپوتانہ مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم
یہاں ایك روپے کا نوٹ چلاہے اور ریاست سے تنخواہ داروں کو روپیہ کے عوض نوٹ ملتاہے،بازارمیں خریدار صراف وغیرہ پندرہ آنے اور ساڑھے پندرہ آنے کو خریدتے ہیں،یہ آنہ اور آدھ آنہ مسلمانوں کو لینا دیناجائزہے یانہیں؟ اس قسم کا لین دین سُود میں داخل ہوگا یامنافع میں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
روپےکا نوٹ پندرہ آنے کو بیچنا خریدنا مطلقًا جائزہے جبکہ باہم رضامندی اور کوئی مانع شرعی عارض نہ ہو اسے سُود سےکوئی علاقہ نہیں،حدیث صحیح میں ارشادفرمایا:
|
اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جب دو نوع مختلف ہوں تو پھر جس طرح چاہو خریدوفروخت کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۵۱: ازجھالراپائن راجپوتانہ مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم
افیون کی خریدوفروخت جائزہے یانہیں؟ چونکہ غیرقوم اس سے فائدہ حاصل کررہی ہے اور اہل اسلام محروم ہیں،شرع شریف نے اس قسم کا بٹہ لینادینا اور تجارت کسی طریقہ سے جائز رکھی ہوتو جواب تشریح کے ساتھ مرحمت فرمایاجائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع