30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالتکدی فھو خبیث[1] برسلطانِ اسلام دولاۃ وحکام ومحتسبان ولاۃ مقام فرض است کہ آنہارا ازیں کردار باز دارند قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من راٰی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذٰلك اضعف الایمان[2] قال اﷲ تعالٰی " لَوْلَا یَنْہٰىہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحْبَارُ عَنۡ قَوْلِہِمُ الۡاِثْمَ وَ اَکْلِہِمُ السُّحْتَ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾"۔[3]نسأل اﷲ العفو والعافیۃ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
وخیرات کسی مالدار اور طاقتور اور تندرست آدمی کے لئے حلال نہیں،چنانچہ فتاوٰی ہندیہ وغیرہ میں ہے کاوش اور چھینا جھپٹی سے جو کچھ سائل نے جمع کیا ہے وہ خبیث(ناپاک)مال ہے۔لہٰذا شاہِ اسلام،مقرر کردہ والی،حکّام اور احتساب کرنے والے،بلند عہدہ رکھنے والے،اُن پر فرض ہے کہ ایسے ذلیل سائلوں کو اس کاروائی سے روك دیں۔چنانچہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جوکوئی تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے زوربازو سے بدل دے(یعنی اسے بند کردے)اگر یہ طاقت نہ ہو تو پھر زبان سے اصلاح کرے،اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر اسے دل سے بُراسمجھے لیکن یہ سب سے ضعیف ترایمان ہے۔اور اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے اﷲ والے اور پادری انہیں کیوں نہیں روکتے بلاشبہہ بہت بری کاروائی ہے جو وہ سرانجام دے رہے ہوں۔ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورعافیت کاسوال کرتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۳۹: حکیم محمد حسن ازبہیڑی ضلع بریلی ۶/رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محکمہ آبکاری میں جوکہ گورنمنٹ کی طرف سے ملازمت کرتے ہیں مثلًا جیسے کہ انسپکٹر آبکاری،یہ ملازمت جائز ہے یاناجائز؟ اگرجائزہے تو کس وجہ سے اورناجائز ہے تو کس وجہ سے؟ دلائل بیان فرمائیے فقط۔
الجواب:
شراب کابنانا،بنوانا،چھونا،اٹھانا،رکھنا،رکھوانا،بیچنا،بکوانا،مول لینا،دلوانا سب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع