30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
حرام تاوان کا حرام اور جائز کا جائز۔سائل نے متعدد سوال گول اور مجمل لکھے جو کسی صورت خاصہ میں حکم معلوم کرناچاہے اسے مفصل وہ خاص صورت بیان کرناچاہئے کہ اس کا حکم بتایاجائے۔
مسئلہ ۲۳۱: ازسرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
ایك عزیز زید کا زید کو ازراہِ صلہ رحمی ماہوار وظیفہ دیتاہے مگر مہاجن سے سودی روپیہ قرض لے کر دیتاہے کسی اپنی دنیوی وجہ سے،تو ایسے روپے سے خیرات جائز یاناجائز؟
الجواب:
بلاضرورت شرعیہ ومجبوری صادق سودی روپیہ قرض لینا حرام اور شدید گناہ کبیرہ ہے۔صحیح حدیث میں سود لینے والے اور سود کھانے والے کو برابر بتایا اور دونوں پر سخت وعید فرمائی تو یہ روپیہ کہ ایك عقد فاسد سے اس نے حاصل کیا خود خبیث ہے اور اسے واپس دینا اور اس عقد کو فسخ کرنا واجب ہے امور خیر یا اپنے کسی مصرف میں نہیں لاسکتا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: ازسرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
زید نے عمر کو روپیہ قرض دیا،عمر نے ادائیگی روپیہ زید کی ناپاك روپے سے کی،تو ایسی حالت میں روپیہ زید کا پاك رہا یاناپاک؟
الجواب:
ناپاك روپیہ دو قسم ہے،ایك وہ جو اس شخص کی مِلك ہی نہیں جیسے غصب یا رشوت یا چوری کا روپیہ،یہ روپیہ اس سے نہ کوئی اپنے قرض میں لے سکتاہے نہ اپنی کسی بیچی ہوئی چیز کی قیمت میں،اور اگر لے گا تو وہ اس کے لئے حرام وناپاك ہوگا جبکہ اسے معلوم ہو کہ دینے والے کے پاس بعینہ یہ روپیہ اس وجہ حرام سے ہے۔اور اگر دینے والے کے پاس علاوہ حرام ہر قسم کا روپیہ ہے اور لینے والے کو معلوم نہیں کہ یہ روپیہ جو کچھ دے رہاہے خاص وجہ حرام کاہے تو لینے میں حرج نہیں۔
|
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام لعینہ[1]۔ |
فتاوٰی ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد کے حوالے سے یہ روایت نقل فرمائی کہ ہم اسی مسئلہ کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی شیئ کے عین حرام ہونے کا علم نہ ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع