30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان اشار الیھا ونقد غیرھا او الی غیرھا او اطلق ونقدھا لا وبہ یفتی[1]۔ |
دئیے تو وہ چیز حرام ہے اور اگر ان کی طرف اشارہ کیا لیکن دیتے وقت دوسرے دراہم بصورت نقدی دئیے یا دوسرے دراہم کی طرف اشارہ کیا یاچیز خریدتے وقت ثمن سے اطلاق کیا(کہ فلاں چیز دے دے)،پھر قیمت دیتے وقت وہی حرام درھم دئیے تو اسے خیرات نہ کرے(اس لئے کہ وہ پاك ہے)اور اسی پرفتوٰی دیاجاتاہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
الخبث لفساد الملك انما یعمل فیما یتعین لافیما لایتعین واما الخبث لعدم الملك کالغصب فیعمل فیھما کما بسطہ خسرووابن الکمال[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مِلك فاسد ہونے کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہوتی ہے وہ متعین شے پر اثرکرتی ہے۔جبکہ غیرمتعین میں مؤثر نہیں ہوتی لیکن عدمِ ملك کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہو جیسے غصب وغیرہ تو وہ متعین،غیرمتعین دونوں میں اثرکرتی ہے جیسا کہ خسرواور ابن کمال نے تفصیل سے اس کو بیان فرمایا۔اور اﷲ تعالٰی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۲۲۶: ازبریلی حاضرکردہ محمد صدیق عفی عنہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی محمدقاسم صاحب نے آٹھ سوروپیہ کے نوٹ واشرفیاں سکترصاحب کو برائے عمارت جامع مسجد دئیے تھے سکتر صاحب نے چھ سوکا سامان منگوایا دوسوباقی رہے اور کام مسجدکا شروع کروادیا اہل محلہ نے کسی وجہ سے اس کام کو روکا سکترصاحب کو اس سے ملال ہوا اور کار سے دست بردار ہوئے اور قصدعمارت کاتَرك کردیا،سکترصاحب سے دریافت کیاگیا کہ حاجی صاحب نے جو روپیہ دیاتھا وہ آپ کے پاس بجنسہٖ یا اس میں کچھ تصرف ہواہے،اس کے جواب میں انہوں نے فرمایاکہ حاجی صاحب نے اشرفیاں ونوٹ دئیے تھے میں نے اشرفیاں اپنی اشرفیوں میں ڈال دیں اور نوٹ خزانچی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع