30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۲۴: ازشہر چاٹگام موضع نیاگاؤں ازجانب محمدقدرت اﷲ عفی عنہ
|
چہ میفرمایند علمائے دین اندریں صورت کہ اگرشخصے معاملہ سودنمودہ اموال کثیرہ فراہم نمایند پس رحلت ازدارِ دنیا بدار آخرت اموالیکہ ازمعاملہ جمع شدہ برائے وارثان وغیرہ جائزوحلال باشد یانہ؟ |
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورتِ مسئلہ میں کہ ایك شخص نے سُودی کاروبار اورلین دین کرکے بہت سامال اکٹھا کیا پھر دارِ دنیا سے دارِ آخرت کی طرف کوچ کرگیا لہٰذا جومال سودی کاروبار سے جمع کیاگیا وہ اس کے وارثوں وغیرہ کے لئے جائز اور حلال ہے یانہیں؟ |
الجواب:
|
اگروارثان دانند کہ ازفلاں فلاں کس ایں قدر رباگرفتہ است واجب ست کہ بآنہا واپس دہند اگرایشاں نماندہ باشند بوارثان ایشاں رسانند اگروارثان ہم نیابندیا ازسرفلاں فلاں راندانستہ باشند مگرعین اموال ربا معلوم ومعین است آں اموال رابر فقراء تصدّق کنند واگرہیچ درعلم ایشاں نیست جزاینکہ ربامی گرفت ترکہ مراینہا را حلال است فی ردالمحتار الحاصل،انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ وان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما و الاحسن دیانۃ التنزہ عنہ[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
اگرورثاء جانتے ہیں کہ اس قدرمال فلاں فلاں سے بطور سود لیاگیا تو ضروری ہےکہ ان کے مالکوں کو واپس کردیں لیکن اگر وہ مالکان وفات پاچکے ہوں تو ان کے ورثاء کو لوٹادیں، اگرورثاء موجود ہی نہ ہوں یا ان کی تفصیل معلوم نہ ہو سکے اور سودی رقم کی مقرر مقدار معلوم ہو تو اس مال معینہ کو فقراء ومساکین میں تقسیم کردیں۔اگرمذکورہ امور میں سے کوئی بات ان کے علم میں نہ ہو تو ایسی صورتحال میں ورثاء کے لئے اس میت کاترکہ حلا ل ہے۔چنانچہ فتاوٰی شامی میں ہے خلاصہ یہ ہے کہ اگر اربابِ مال کوجانتا ہے تومال انہیں لوٹادینا ضروری ہے لیکن اگریہ نہیں جانتا اور مال حرام معین کا علم رکھتاہے تو اس کے لئے حلال نہیں بلکہ مالك مال کی نیت سے اسے خیرات کردے اور اگرمال مخلوط(ملاجلا)ہو جو حرام طریقہ سے جمع کیاگیا اور اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع