30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی الحدیث کسب الحجام خبیث[1] وعللوہ بالتلبس بالنجاسات وقد ثبت ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احتجم واعطی الحجام [2]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
یاخود کھالیں پکالی جائیں تو ان سے فائدہ اٹھایاجاسکتاہے لیکن بصورت دیگرجائز نہیں الخ اور حدیث مبارکہ ہے کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔ائمہ کرام نے اس کی یہ علت بیان فرمائی کہ اس کا نجاستوں سے تلبس ہواکرتاہے اور بلاشبہہ یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور لگانے والے کو اجرت بھی دی۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۲۳: ازمقام کول مانك چوگ مسئولہ زوجہ عبدالرشید خان مرحوم ۲۲/شعبان المعظم ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کسبی نے جو کچھ مال حرام پیداکیاتھا چہ نقدی وچہ زیور وچہ جائداد خریدی ہوئی اسی مال سے پیدا کی تھی،جب وہ کسبی تائب ہوئی تو اس نے اس قسم مال حرام کو پیدا کردہ اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں اور بہنوئی سے کہا کہ یہ مجھے درکار نہیں ہے میں نے تم کو چھوڑا،یہ کہہ کر الگ ہوگئی،انہوں نے اس مال اور جائداد کو صرف کرڈالا،اب یہ استفسار ہے کہ یہ دے دینا اس کا اُن کو صحیح ہوگیا یاکیا اور جو صحیح نہ ہوا ہو تو اس کو یہ واپس کرسکتی ہے یانہیں اور اس غرض سے واپسی چاہتی ہے کہ اگر مل جائے تو اس وقت کی نقدی سے جائداد خرید کرکے اُسے مصرف خیر میں صَرف کرے اس کی کیا صورت ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
رنڈی جومال اُس حرام وناپاك ذریعے سے حاصل کرتی ہے اس کی مِلك نہیں ہوتا حکمِ غصب رکھتاہے اس پرفرض ہوتاہے کہ جن سے لیا واپس دے،وہ نہ رہے ہوں تو اُن کے ورثہ کو دے،وہ نہ ملیں تو فقرأ پر تصدق کرے،اور ظاہر ہے کہ بعد ایك مدّت مدیدہ کے جو عورت تائب ہو وہ ہرگز حساب نہ لگاسکے گی کہ کب کتنا کس سے لیا،تو جومال اس کے ہاتھ میں ہے اموال ضائعہ کے قبیل سے ہواکہ اس کے مصرف فقراء ہیں،اور اس کی ماں بہنیں کہ وہ بھی رنڈیاں اور اُس وقت تك اُسی پیشہ ملعونہ میں آلودہ ہیں اگرچہ اُس ناپاك ذریعہ سے لاکھوں روپے اُن کے پاس ہوں شرعًا محض محتاج ونادار ہیں لما عرفت من ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع