30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اختیار کیاتھا اور اب اسلام لاتی ہے تو اب بھی اسلام قبول تھا اگرچہ وہ معاذاﷲ اس زنا سے باز بھی نہ آتی کہ زنا کفرنہیں زنا کاوبال رہتا اور اسلام صحیح ہوجاتا،اب کہ وہ بحمداﷲ زنا سے بھی جدا ہوئی،اسلام صحیح نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں،نہ اس تنخواہ سے ممانعت کی کوئی ضرورت کہ وہ معاوضہ زنا میں نہیں بلکہ صراحۃً اس انگریز سے صاف کہہ دیا ہے کہ اب وہ زنا سے باز رہے گی اور اپنی قوم میں اپنے دین پر رہے گی تویہ تنخواہ محض بلاعوض اور ہندہ کے لئے حلال ہے۔فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
|
الرجل اذا کان مطربا مغنیا ان اعطی بغیر شرط قالوا یباح[1]۱ھ ومثلہ فی رد المحتار[2] عن الھندیۃ عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اگر اسے بغیر کسی تقاضے اور شرط کے کچھ دیاجائے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لئے مباح ہے چنانچہ فتاوٰی شامی میں فتاوٰی عالمگیری سے اس نے المنتقی سے اس نے ابراہیم سے اس نے صاحب امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے اسی طرح نقل کیا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۲۲: از شہرکہنہ ۲۰/صفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھال مردار گھوڑے اور گدھے کی گیلی خریدنا جائزہے یانہیں اور اس گیلی کھال کو سڑاکر ہاتھ سے ملنا اور بنانا یعنی نجاست صاف کرنا اس غلیط کام کرنے والے کے کھانا کھاناجائزہے یانہیں؟
الجواب:
گھوڑا گدھا کہ بے ذبح مرجائے اس کی کھال کہ پکائی نہ گئی ہو بیچنا خریدنا حرام ہے اور دباغت کرناجائزہے اور اس کا پیشہ مکروہ،اور اس کے کھانے سے احتراز اولٰی ہے۔عالمگیری میں ہے:
|
اما جلودالسباع والحمر والبغال فما کانت مذبوحۃ او مدبوغۃ جازبیعہا وما لا فلا[3] الخ |
لیکن درندوں،گدھوں اور خچروں کی کھالیں اگرذبح کئے ہوئے جانوروں سے اتاری جائیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع