30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ اذا غصب ارضا فبنی فیھا مسجدا او حماما او حانوتا فلاباس بالصلٰوۃ فی المسجد والدخول فی الحمام للاغتسال وفی الحانوت للشراء ولیس لہ ان یستأجرھا وان غصب دارًا فجعلھا مسجدا لایسع لاحدان یصلی فیہ ولا ان یدخلہ [1] الخ قلت وذکرنا ثمہ ان التفرقۃ فی الدار والارض کانھا مبنیۃ علی غیر الارجح فی مسألۃ غصب الساحۃ بالحاء المھملۃ وایاما کان فدلالتھا علی ماھنا تام کمالا یخفی وبالجملۃ فخبث الملك لایمنع صحۃ الوقف وصحتہ تعتمد آثارہٖ فافھم۔ |
امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا جب کوئی آدمی زمین غصب کرے یعنی زبردستی چھین لے پھر وہاں مسجد،حمام اور دکان تعمیر کردے تو مسجد میں نماز پڑھنے،حمام میں غسل کرنے اور دکان سے اشیاء خریدلینے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں،البتہ غاصب کیلئے جائزنہیں کہ اسے کرایہ پر دے،اور اگر اس نے کوئی حویلی چھین لی پھر اسے مسجد بنادیا تو کسی کے لئے وہاں داخل ہونے اور نماز پڑھنے کی گنجائش نہیں۱ھ میں کہتاہوں کہ ہم نے پہلے بھی یہ بیان کردیا کہ گھر اور زمین کے حکم میں فرق کرنا گویا غیرراجح قول پرمبنی ہے جو غصبِ صحن کے مسئلہ میں ہے"الساحۃ"حاء بغیر نقطہ ہی درج ہے پس جو بھی ہو اس کی دلالت یہاں تام ہے جو ظاہر ہے(الحاصل) مِلك کی خباثت وقف کی صحت سے مانع نہیں،اس کی صحت کا دارومدار اس کے آثار پرہے،یہاں اس کو سمجھ لیا جائے۔(ت) |
اور فقیر کو اس کا خیرات میں لینا تو بدرجہ اولی جائز ہے کہ یہ تو عین حکم شرع ہے جبکہ مالك کا پتانہ رہاہو اور ویسے بھی مال ربا میں بعد قبضہ عدم ملك نہیں صرف خبث ملک،
|
فی الرد المحتار عن البحر الرائق عن القنیۃ عن الامام البزدوی ان من جملۃ صورالبیع الفاسد جملۃ العقود الربویۃ یملك العوض فیھا بالقبض [2] انتہی، |
ردالمحتار نے بحرالرائق سے بحرالرائق نے غنیہ سے اور فنیہ نے امام بزدوی سے نقل کیاہے۔بیع فاسد کی تمام صورتوں میں سُودی معاملات ہیں ان میں قبضہ کرنے کے عوض مالك ہوجاتاہے انتہی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع