30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کردی گئی۔ت)اورمسجد یا تالاب بنانا یا حج کرنا اصلًا ادائے حکم نہ ہوگا اور اس پر سے گناہ نہ جائے گا،ہاں خیرات کردینے کاحکم ہے یوں اس کی توبہ تمام ہوگی اور ان شاء اﷲ تعالٰی گناہ سے بری الذمہ ہوگا اور توبہ کرنے اور حکمِ شرع دربارہ تصدق بجالانے کاثواب بھی پائے گا اگرچہ خیرات کا ثواب نہ ہوگا کما حققناہ فی فتاوٰنا،واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی پوری تحقیق کردی،اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اس کا علم زیادہ مکمل اور پختہ ہے۔ت)
(۲)حج کاجواب گزرچکا کہ اس روپے کو اس صَرف میں اُٹھانا جائزنہیں،ہاں فرضِ حج ذمّہ سے ادا ہوجائے گا،
|
فان القبول شیئ اٰخر غیر سقوط الفرض وکان کمن صلی فی ارض مغصوبۃ۔ |
کیونکہ کسی شے کا قبول ہونا اور فرض ساقط ہوجانا دونوں ایك نہیں بلکہ الگ الگ چیزیں ہیں یعنی قبولیتِ شے اور چیزہے اور سقوط فرض اورچیز،جیسا کہ کوئی شخص ناجائز مقبوضہ زمین پرنماز پڑھے تو اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا مگرنماز مقبول نہ ہوگی۔(ت) |
اور اگرمسجد یاتالاب بنایا تو اس میں نماز اور اس سے وضو وغیرہ وشرب سب جائزہے والدلائل تعرف فی فتاوٰنا(دلائل کا تعارف ہمارے فتاوٰی میں موجود ہے۔ت)بلکہ خانیہ وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
|
لواشتری رجل دارا شراء فاسدا وقبضھا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت علیہ وعلیہ قیمتھا [1]۱ھ وتحقیق الکلام فیہ فیما علقنا علی ردّالمحتارمن اول الوقف۔ |
اگر کوئی شخص بیع فاسد سے گھر خریدے پھر اس پر قابض ہو جائے پھر اسے فقیروں اور محتاجوں کیلئے وقف کردے تو جن پر یاجن کے لئے وہ گھر وقف کیاگیا وہ وقف قرار پاجائے گا مگر اس کی قیمت کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی ۱ھ اس میں تحقیق کلام وہی ہے جس کو ہم نے فتاوٰی شامی کی بحث وقف کے آغاز میں حاشیہ میں بیان کیا ہے۔(ت) |
بلکہ جامع المضمرات وعالمگیریہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع