30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توبعد توبہ جو وظیفہ جدید دیاگیا اس میں حرمت کیونکر آسکتی ہے وھذا کلہ ظاھر جدا(بلاشبہہ یہ سب کچھ خوب ظاہر ہے۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶ و ۲۱۷: ازبنگالہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی اکرم یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)اگر کسی سود خوار نے سودی روپیہ سے مسجد بنائی یا حج کیا یا حج کروایا یا تالاب کھدوایا یا خیرات کی تو وہ شخص مستحقِ ثواب ہوگا یانہیں؟
(۲)اُس مسجد میں نماز پڑھنا یا حج کرنے والے کو اس سودی روپیہ کا حج کے خرچ میں لانا یا اس تالاب میں وضو وغسل کرنا یا پانی پینا یا اس مال خیرات کو مستحقین خیرات کا لے لینا جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
(۱)سود کے روپیہ سے جو کارِ نیك کیاجائے اس میں استحقاقِ ثواب نہیں،
حدیث شریف میں ہے:جو مالِ حرام لے کر حج کوجاتاہے جب لبیك کہتاہے ہاتف غیب سے جواب دیتاہے:
|
لالبیك ولاسعدیك وحجك مردود علیك حتی ترد ما فی یدیک[1]۔ |
نہ تیری لبیك قبول،نہ خدمت پذیر،اور تیراحج تیرے منہ پر مردود ہے یہاں تك کہ تو یہ مال حرام کہ تیرے قبضہ میں ہے اس کے مستحقوں کو واپس دے۔ |
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ان اﷲ طیّب لایقبل الاَّ الطیب[2]۔ |
بیشك اﷲ عزوجل پاك ہے پاك ہی چیز کو قبول فرماتاہے۔ |
سودخوار پر شرعًا فرض ہے کہ جتناسُود جس جس سے لیاہے اسے واپس دے،وہ نہ رہاہو اس کے وارثوں کو دے،وہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالك اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدّق کردے،وہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالك اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدّق کردے اور تصدّق میں فقیر کو مالك کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار(جیسا کہ فتاوٰی قاضیخان وغیرہ عام بڑی کتب میں اس کی تصریح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع