30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو دیانۃً افضل احتراز اور حکم جواز۔
|
فی ردالمحتار،اذا علم ان کسب مورثہ حرام یحل لہ لکن اذا علم المالك بعینہ فلاشك فی حرمتہ و وجوب ردّہ علیہ وکذا لایحل اذا علم عین الغصب مثلا وان لم یعلم مابلکہ والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ و ان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما والاحسن دیانۃ التنزہ عنہ[1] اھ ملخصا،قلت وھذا اعنی الحکم باولویۃ التنزہ دیانۃ ھوالمطابق لما فی عامۃ المعتمدات کالخانیۃ والتبیین والھندیۃ وغیرھا وھھنا ابحاث نفیسۃ ذکرناھا فیما علقنا علی ردالمحتار،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ردالمحتار میں ہے جب اسے معلوم ہو کہ مُوْرِث کی کمائی حرام ہے تو عدمِ تعیّن کی وجہ سے اس کے لئے حلال ہے لیکن جب مالك معین معلوم ہو تو پھر مال کی حرمت میں کوئی شك نہیں لہٰذا مال اس کے مالك کو واپس کردینا ضروری ہے۔اسی طرح جب عین غصب یعنی بعینہٖ کوئی شے مغصوب ہو تو اس کا استعمال حلال نہیں اگرچہ مال کا مالك معلوم نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مالکانِ مال معلوم ہوں تو انہیں مال واپس کرنا ضروری ہے لیکن اگر اربابِ مال کو نہیں جانتا اور معیّن شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو اس صورت میں بھی وہ معین حرام مال اس کے لئے جائزنہیں لہٰذا اس کے مالك کی طرف سے صدقہ کردے،اور اگر مال مخلوط حرام طریقے سے جمع کیاگیا اور یہ اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ کسی معین شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو ایسی صورت میں یہ،مال قضاکے طور پر اس کے لئے حلال ہے لیکن دیانت وتقوٰی کے لحاظ سے زیادہ بہتری پرہیز میں ہے اھ ملخصا،میں کہتاہوں کہ لفظ ھٰذا سے میری مراد یہ ہے کہ بطور دیانت اس مال سے بچنے کاحکم دینا عام معتبر کتابوں کے مطابق ہے جیسے خانیہ،تبیین اورہندیہ وغیرہ۔یہاں چند قیمتی ابحاث ہیں۔ چنانچہ فتاوٰی شامی پرجوہماری تعلیقات ہیں ہم نے وہاں انہیں بیان کیاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع