30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے:
|
روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ لاباس بہ اذاکان التفضیل لزیادۃ فضل فی الدین فان کانا سواء یکرہ [1]۔ |
حضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے(کہ اولاد میں سےکسی ایك کو ہبہ کرنے میں)کچھ حرج نہیں جبکہ اس دوسری اولاد میں ترجیح وتفضیل دینا دینی فضل وشرف کی وجہ سے ہو لیکن اگر سب برابر ہوں تو پھر ترجیح مکروہ ہے۔ (ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
لوکان الولد مشتغلا بالعلم لابالکسب فلاباس بان یفضلہ علٰی غیرہ کذا فی الملتقط[2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر بیٹا حصول علم میں مشغول ہو نہ کہ دنیوی کمائی میں تو ایسے بیٹے کو دوسری اولاد پر ترجیح وتفضیل دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ملتقط میں اسی طرح مذکور ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۱۰: از ملك بنگالہ شہر نصیرآباد قصبہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ باپ نے سُود وغیرہ حرام مال چھوڑ کر انتقال کیا اب وہ مال لڑکے کے واسطے حلال ہوگا یانہیں،لڑکا حرام خوری میں ناراض تھا۔
الجواب:
جس جس شخص کی نسبت معلوم ہو کہ فلاں سے اتنا مال سود یا رشوت یاغصب یا چوری میں اس کے باپ نے لیاتھا اس پر فرض ہے کہ ترکہ سے اُتنا اُتنا مال اُن لوگوں یا اُن کے وارثوں کو واپس دے اگرچہ وہ مال بعینہٖ جدا نہ معلوم ہو جو ان ناجائز طریقوں سے لیا،اور جس مال کی نسبت بعینہٖ معلوم ہو کہ یہ خاص وہی مال حرام ہے تو فرض ہے کہ اُسے مال غیر وغصب سمجھے اگرچہ وہ لوگ معلوم نہ ہوں جن سے لیاتھا پھر بحالتِ علم اُن مستحقوں یا ان کے وارثوں کو دے ورنہ ان کی نیت سے فقراء پر تصدق کرے،اور اگر اجمالًا صرف اتنا معلوم ہو کہ ترکہ میں مال حرام بھی ملاہے مگر نہ مال متمیز نہ مستحق معلوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع