30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیہ ماحرم اﷲ علیہ [1]۔ |
لاد کر بازار میں لے جائے اور انہیں فروخت کرکے قیمت وصول کردہ سے اپنے کھانے پینے کا بندوبست کرے تو یہ اس کے لئے بھیك مانگنے سے بدرجہا بہترہے،اور یہ کہ مٹّی لے کر اپنا منہ بھرلے تو اس کے لئے اس سے بہترہے کہ جس چیز کو اﷲ تعالٰی نے حرام کیاہے اسے اپنے منہ میں ڈالے۔(ت) |
احادیث اس باب میں بکثرت ہیں،اﷲ عزّوجل مسلمانوں کو نیك توفیق وہدایت بخشے،آمین۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: ۲۰ربیع الآخر ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص نے اپنی معاش علانیہ قماربازی اورزناکاری کے ذریعہ سے کررکھی ہے اور کوئی ذریعہ اس کے یہاں آمدنی کا مطلق نہیں ہے اس کے مال میں سے نذرونیاز کے کھانے کاکھانا جس کو اس کی آمدنی کا حال معلوم،کیساہے؟ فاتحہ دینے والے کو اس کے مال کی کیفیت معلوم ہے اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب:
اگرجوچیز اس نے حرام کاری یا قمار بازی سے حاصل کی بعینہٖ اسی شے پر نیاز دلائی مثلًا جوئے میں چاول جیتے تھے انہیں کا پلاؤ پکایا،زانیہ کو اس کے آشنا نے گوشت بھیجا اسی پر فاتحہ دلائی جب تو وہ نیاز وفاتحہ یقینی مردود اور اس کھانا قطعی حرام،اور فاتحہ دینے والے کو اگر معلوم تھا کہ بعینہٖ یہ وہی شَے ہے تو وہ بھی سخت عظیم شدید گناہ میں گرفتار،یہاں تك کہ فاتحہ دینے دلانے والے دونوں پر معاذاﷲ خوفِ کفر ہے دونوں پرلازم کہ کلمہ اسلام نئے سرے سے پڑھیں اور نکاح کی تجدید کریں۔
|
فی الھندیۃ عن المحیط ولوتصدق علٰی فقیر بشیئ من مال الحرام ویرجوا الثواب یکفر |
فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے مذکور ہے اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کی جائے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع