30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دخول دارھم للتجارۃ وبدلیل ماثبت حدیثا وفقھا من جواز الذھاب الی ضیافتھم کما فی الھندیۃ وغیرھا ونقلوہ عن محرر المذھب محمد رحمہ اﷲ تعالٰی۔ |
آثار میں یہی وارد ہے الخ قلت(میں کہتاہوں کہ)یہاں مکروہ سے مکروہ تنزیہی مراد ہے اس دلیل سے جو پہلے گزرچکی ہے کہ ان کے گھروں یابستیوں میں بغرضِ تجارت جاناجائزہے اور اس دلیل سے بھی کہ حدیث اور فقہ سے ثابت ہے کہ ان کی دعوتوں میں جاناجائزہے جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں مندرج ہے اور اس کو ائمہ فقہ نے راقم المذہب حضرت امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے نقل کیاہے۔(ت) |
پھر ہم صدرکلام میں ایما کرچکے کہ یہ جواز بھی اُسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں جانے میں کسی معصیت کاارتکاب نہ کرناپڑے مثلًا جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس سے دور وبیگانہ موضع میں جگہ نہ ہو تو یہ جانا مستلزمِ معصیت ہوگا اور ہرملزوم معصیت معصیت اور جانا محض بغرضِ تجارت ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت کہ اس نیت سے مطلقًا ممنوع اگرچہ مجمع غیرمذہبی ہو۔
|
وذٰلك لان اعیادھم ومجامعھم لاتنفك عن القبائح الشنیعۃ والمنکرات القطعیۃ والتفرح علی الحرام حرام کما نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ[1]، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
اس لئے کہ ان کی عیدیں اور مجلسیں بدترین قباحتوں اور رسوا کن منکرات پرمشتمل ہوتی ہیں اور حرام سے خوش ہونا بھی حرام ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں تصریح فرمائی گئی ہے۔ اﷲ تعالٰی پاك برتراور خوب جاننے والا ہے۔(ت) |
مسئلہ ۲۰۴: از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عمرجلیل ۱۶شوال ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درزی اگر رنڈی کاکپڑا سِئے تودرزی کو اس کپڑے کی مزدوری لیناچاہیے یانہیں؟ بیّنوا توجروا(بیان فرمائیے اور اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وہ روپیہ جورنڈی کوزنا یا اُجرت یا میل کی رشوت میں ملاہے اس سے اُجرت لیناحلال نہیں ہاں اور قسم کا روپیہ ہو تو جائز جو شرعًا رنڈی کی مِلك ہو،اور اگر اس کےپاس دونوں قسم کے مال ہیں تو جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ اُجرت جو اُسے دے رہی ہے اسی مال غیرمملوك سے ہے لیناجائزہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع