30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الھندیۃ عن المبسوط قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لاباس بان یحمل المسلم الٰی اھل الحرب ماشاء الا الکراع والسلاح والسبی وان لایحمل الیھم شیئا، احب الی[1]۔ |
فتاوٰی عالمگیری میں بحوالہ مبسوط درج ہے کہ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا مسلمان دارالکفر میں سوائے گھوڑے، ہتھیار اور غلام کے جو چاہے لیجاسکتاہے اس میں کوئی حرج نہیں البتہ کوئی ایسی چیزلے کر دارِ کفر میں نہ جائے تو پسندیدہ امرہے۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ و معہ فرسہ و سلاحہ وھو لایرید بیعہ منھم لم یمنع ذٰلك منہ[2]۔ |
جب کوئی مسلمان تجارت اور کاروبار کیلئے دارِ حرب میں داخل ہوناچاہے اور اس کے پاس گھوڑے اور ہتھیار ہوں اور وہ انہیں حربیوں پرفروخت کرنے کاارادہ نہ رکھتاہو تو مذکورہ اشیاء کے لے جانے سے اسے نہ روکاجائے گا۔(ت) |
پھر بھی کراہت سے خالی نہیں کہ وہ ہروقت معاذاﷲ محلِ نزولِ لعنت ہیں تو اُن سے دوری بہتر،یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں اُن کے محلہ میں ہو کر گزرہو تو شتابی کرتاہوا نکل جائے وہاں آہستہ چلناناپسند رکھتے ہیں تو رکنا ٹھہرنا بدرجہ اولٰی مکروہ۔
|
فی الطحطاویۃ عن ابی السعود عن الشرنبلالیۃ دارھم محل تنزل اللعنۃ فی کل وقت ولاشك انہ یکرہ الکون فی جمع یکون کذٰلك بل وان یمر فی امکنتھم الا ان یھرول ویسرع وقدوردت بذٰلك اٰثار[3] الخ قلت والمراد ھٰھنا کراھۃ التنزیہ بدلیل مامر فی جواز |
طحطاوی میں ابوالسعود کے حوالہ سے شرنبلالیہ سے نقل کیاگیا ہے،وہ ایسی جگہیں ہیں جہاں ہروقت لعنت برستی رہتی ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جہاں ایسی مجلس اور اجتماع ہو وہاں ٹھہرنا مکروہ ہے بلکہ ان مقامات کے پاس سے گزرنا بھی مکروہ ہے الاّ یہ کہ دوڑتے ہوئے جلدی سے گزرجائے (اور وہاں سے نکل جائے) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع