30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی جاناناجائزومکروہِ تحریمی ہے،اور ہرمکروہِ تحریمی صغیرہ،اور ہرصغیرہ اصرار سے کبیرہ۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ معابدِ کفّار میں جانا مسلمان کو جائزنہیں،اور اس کی علت یہی فرماتے ہیں کہ وہ مجمع شیاطین ہیں،یہ قطعًا یہاں بھی متحقق،بلکہ جب وہ مجمع بغرض عبادت غیرخدا ہے تو حقیقۃً معابدِ کفّار میں داخل کہ معبد بوجہ اُن افعال کے معبد ہیں،نہ بسبب سقف ودیوار،
|
وھذا ظاھر جدّا،فی الھندیۃ عن التاتار خانیۃ عن الیتیمۃ،یکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکیسۃ وانما یکرہ من حیث انہ مجمع الشیاطین[1]۔ |
یہ بلاشبہ ظاہر ہے،فتاوٰی عالمگیری میں تاتارخانیہ میں الیتیمہ کے حوالے سے منقول ہے کہ کسی مسلمان کے لئے یہودیوں اور عیسائیوں کے گرجوں میں جانا مکروہ ہے اور کراہیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ شیاطین کی جائے اجتماع ہیں۔(ت) |
بحرالرائق میں اسے نقل کرکے فرمایا:
|
والظاھر انھا تحریمۃ لانھا المرادۃ عند اطلاقھم[2]۔ |
اور ظاہر یہ ہےکہ کراہت تحریمی ہے،اس لئے کہ ائمہ کرام کے علی الاطلاق فرمانے سے یہی مراد ہواکرتی ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں اس پر ان لفظوں سے تفریع کی:
|
فاذا حرم الدخول فالصلٰوۃ اولٰی[3]۔ |
جب وہاں جانا حرام ہے تو وہاں نماز پڑھنا بطریق اولٰی حرام ہوگا۔(ت) |
اور اگر وہ مجمع مذہبی نہیں بلکہ صرف لہوولعب کا میلاہے تو محض بغرض تجارت جانا فی نفسہٖ ناجائز وممنوع نہیں جبکہ کسی گناہ کی طرف مودی نہ ہو،علماء فرماتے ہیں مسلمان تاجر کو جائزکہ کنیز وغلام وآلات حرب مثلِ اسپ وسلاح وآہن وغیرہ کے سوا اور مال کفّار کے ہاتھ بیچنے کے لئے دارالحرب میں لے جائے اگرچہ احتراز افضل،توہندوستان میں کہ عندالتحقیق دارالحرب نہیں، مجمع غیرمذہبی کفرہ میں تجارت کےلئے مال لے جانا بدرجہ اولٰی جواز رکھتاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع