30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اھدی الیہ أو اضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل و لایاکل مالم یخبرہ ان ذٰلك المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ وان کان غالب مالہ حلالا لاباس بقبول ھدیتہ والاکل من[1] اھ اقول:وبمثلہ فی الخانیۃ عن الامام الناطفی وعﷲ لان اموال الناس لاتخلو عن قلیل حرام فیعتبر الغالب [2]اھ ھذا واما ماذکرت من التقیید بان لایظہر عندہ کذب ماقال فیعرف بالمراجعۃ الی مافی العالمگیریۃ وغیرھا من تفاصیل الاحکام فی قبول خبر الواحد فارجع واعرف وستوضحہ فی الرسالۃ ان شاء اﷲ تعالٰی۔ |
اس کے عکس میں جب تك اس کے نزدیك حرام ہوناواضح نہ ہوجائےاھ۔اسی میں ملتقط کے حوالے سے ہے کہ سود کھانے والا اور حرام کمانے والا،اگر اس نے کسی کو ہدیہ دیا یا اس کی مہمان نوازی کی،اور حالت یہ تھی کہ اس کاغالب مال حرام ہے تو یہ ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ کھائے مگر یہ کہ وہ بتادے کہ اس مال کی اصل حلال ہے،اور یہ اس کا وارث ہوا ہے یا اس نے قرض لیا ہے،اور اگر اس کا زیادہ ترمال حلال ہو تو ہدیہ قبول کرنے یا اس کے کھانے میں کچھ حرج نہیں اھ اقول: (میں کہتاہوں)اسی کی مثل فتاوٰی قاضیخان میں امام ناطفی کے حوالے سے مذکور ہے اور انہوں نے یہ تعلیل بیان فرمائی کہ لوگوں کے مال تھوڑے حرام سے خالی نہیں ہوتے لہٰذا غالب کا اعتبار کیاجائے گااھ،لیکن وہ قید جو میں نے ذکر کی کہ اس شخص کے نزدیك قائل کا جھوٹ ظاہر نہ ہو،پھر عالمگیری وغیرہ میں ایك آدمی کی خبر قبول کرنے کے بارے میں جو تفصیلاتِ احکام ہیں ان کی طرف مراجعت کرنے سے یہ بات معلوم کی جاسکتی ہے،لہٰذا اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کوپہچان لیجئے،اور ہم عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی اپنے رسالہ مذکورہ میں اس کی وضاحت کردیں گے۔(ت) |
بالجملہ جسے اپنے دین وتقوٰی کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تك خاص اس شیئ کی حلت کاپتہ نہ چلے ورنہ فتوٰی تو جواز ہی ہے تاوقتیکہ بالخصوص اس چیز کی حرمت پر دلیل کافی نہ ملے،اور یہ ساری تفصیل جو ابتداء سے اب تك ہم نے بیان کی کچھ رنڈیوں یا ڈومنیوں ہی کے ساتھ خاص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع