30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ظھیر الدین المرغینانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیھم اجمعین الٰی یوم الدین۔ |
کی تصحیح،مذہب قلم بند کرنے والے امام محمد کے قول کے معارض نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شیئ کے حرام ہونے کو نہ پہچانیں،امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے، جیسا کہ امام اجل ظہیرالدین مرغینانی کے فتاوٰی سے اس کی نقل گزرچکی،اﷲ تعالٰی قیامت تك ان پر نزول رحمت فرمائے۔(ت) |
ہاں ازالہ شبہہ کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ جب صاحبِ مال رنڈی یا ڈومن خود بیان کریں کہ یہ مال ہمارے پاس وجہ حلال سے ہے ہمیں انعام ملا یا ہم نے قرض لیا یا مثلًا بذریعہ زراعت وغیرہا وجوہِ حلال سے حاصل کیا اگر اس شخص کو ان کے بیان میں فرق ظاہر نہ ہو تو اب لے لینے میں کسی طرح حرج نہیں۔
|
فی العالمگیریۃ عن الینابیع اھدی الٰی رجل شیئا او اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلاباس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ھو الحرام ینبغی ان لایقبل الھدیۃ ولا یاکل الطعام الا ان یخبرہ انہ حلال وورثۃ او استقرضتہ من رجل [1]اھ وفیھا عن التمرتاشی لایجیب دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام مالم یخبر انہ حلال وبالعکس مالم تتبین عندہ انہ حرام [2]اھ وفیھا عن الملتقط اٰکل الربٰو او کاسب الحرام |
فتاوٰی عالمگیری میں ینابیع کے حوالے سے مذکور ہے کسی شخص نے کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ دی یا اس نے اس کی مہمان نوازی کی،اگر اس کا زیادہ ترمال حلال ہے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں،مگریہ کہ اسے معلوم ہوجائے کہ یہ حرام ہے،پھر اگر اس کا غالب مال حرام ہو تو مناسب یہ ہے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ طعام کھائے،مگر یہ کہ وہ اسے بتادے کہ یہ حلال ہے کیونکہ میں اس کا وارث ہوا ہوں یا میں نے کسی آدمی سے قرض لیا ہےاھ،اور اسی فتاوٰی عالمگیری میں امام تمرتاشی کے حوالے سے منقول ہے یہ اس شخص کی دعوت قبول نہ کرے جس کا غالب مال حرام ہو،جب تك وہ یہ نہ بتائے کہ وہ حلال ہے اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع