30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن النعمان بن بشیر والطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین۔ |
اور ابن ماجہ نے نعمان بن بشیر سے تخریج کی،اور طبرانی نے ابن عباس کے حوالے سے ذکر کیا۔اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔(ت) |
بلکہ بعض علماء نے تو درصورت غلبہ حرام رخصت ہی نہ دی اور عدم جواز کی تصریح فرمائی یعنی جب دینے والے کا اکثر مال وجہ حرام سے ہے تو اس کے مال سے کچھ لیناجائزنہیں جب تك اس خاص چیز کا وجہ حلال سے آنا ظاہر نہ ہوجائے،
|
ففی الھندیۃ عن المختار شرح الاختیار لایجوز قبول ھدیۃ امراء الجور لان الغالب فی مالھم الحرمۃ[1] الخ وفیھا ایضا فی فتاوٰی اھل سمرقند رجل دخل علی السلطان فقدم علیہ شیئ ماکول فان اشتراہ بالمن اولم یشتر ذٰلك ولکن ھذا الرجل لا یفھم انہ منصوب بعینہ حلہ اکلہ ھکذاذکر و الصحیح انہ ینظر الی مال سلطان وبین الحکم علیہ ھٰکذا فی الذخیرۃ[2] اھ مافی الھندیۃ قلت لکن تصحیح الذخیرۃ لایعارض قول محرر المذھب محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ[3] کما مر نقلہ عن فتاوی الامام الاجل |
فتاوٰی عالمگیری میں المختار شرح اختیار کے حوالے سے یہ قول مذکور ہے کہ ظالم امراء کے ہدیہ کو قبول کرناجائزنہیں اس لئے کہ ان کا زیادہ تر مال حرام ہوتاہے الخ۔اور اسی میں فتاوٰی اہل سمرقند کے حوالے سے مذکور ہے ایك آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کوئی کھانی کی چیز لائی گئی،اگر دینے والے نے اسے قیمت سے خریدا ہو یا نہ خریدا ہو لیکن یہ لینے والا شخص نہ سمجھ سکا کہ یہ بعینہٖ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے لئے اس کا کھانا حلال ہے۔اہل علم نے اسی طرح ذکر فرمایا، لیکن صحیح یہ ہے کہ شخص مذکور بادشاہ کے مال اور اس پر جو شرعی حکم لاگو ہوتاہے اس پر غوروفکر کرے،ذخیرہ میں اسی طرح مذکور ہے۔فتاوٰی عالمگیری میں جو کچھ تھا وہ پورا ہوگیا۔ قلت(میں کہتاہوں کہ)ذخیرہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع