30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الخانیۃ لایخلو ذلك عن نوع شبھۃ الا انھم قالوا لیس زماننا زمان الشبھات فعلی المسلم ان یتقی الحرام المعاین[1]اھ،وفی الباب الخامس والعشرین من کراھۃ العالمگیریۃ عن جواھر الفتاوی فی الجملۃ ان طلب الحلال من ھٰذہ البلاد صعب وقد قال بعض مشائخنا علیك بترك الحرام المحض فی ھذا الزمان فانك لاتجد شیئا لاشبھۃ فیہ [2] اھ۔ |
فتاوٰی قاضیخان میں ہے یہ چیز نوع شبہ سے خالی نہیں مگر فقہائے کرام نے فرمایا کہ ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا زمانہ نہیں لہٰذا اس زمانے میں مسلمانوں کے لئے لازم ہےکہ وہ دیکھے ہوئے حرام سے بچےاھ،فتاوٰی عالمگیری کے پچیسویں باب کراہۃ میں جواہر الفتاوٰی کے حوالے سے ہے کہ حاصل کلام یہ ہے کہ ان شہروں میں حلال تلاش کرنا کسی قدر مشکل ہے،یہی وجہ ہے ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا کہ اس زمانے میں تم پر خالص حرام کوچھوڑ دینالازم ہے کیونکہ تم کوئی ایسی چیز نہیں پاسکتے کہ جس میں کوئی شبہہ نہ ہو اھ(ت) |
مگرتاہم یہ حکم ظاہر کاہے دیانۃً اگر معلوم ہو کہ اس کا مال اکثروجہ حرام سے ہے تو متقی کاکام اس سے بچنا ہے جب تك ظاہر نہ ہو کہ یہ خاص مال جو اس کے صرف میں آئے گا وجہ حلال سے ہے،آدمی کو حظوظ نفس کی وسعتیں خراب کرتی ہیں،حق سبحانہ،وتعالٰی نے جب انسان کو بحکم الدنیا خضرۃ حلوۃ (دنیا سرسبزمیٹھی ہے۔ت)اس سبزہ زار شہد نماز،ہرفروش یعنی دنیا میں بھیجا بمحض رحمت ازلی اس کے قاتل زہر کو الگ چُن کر حد مقرر فرمادی اور نواہی شرعیہ عام منادی سنادی کہ او غافل بکریو! اس احاطہ کے اندر نہ چرنا،تمہارا دشمن بھیڑیا کہ عبارت شیطان سے ہے اسی جنگل میں رہتاہے یہاں کی گھاس اس وقت کی نظر میں تمہیں ہری ہری دوب لہکتی لہلہاتی نظرآتی ہے مگر خبردار اس میں بالکل زہربھرا ہے،اب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع