30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انہ من مالہ او من مال غیرہ فھو حلال حتی یتبین انہ حرام [1]اھ،وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ سئل ابو جعفر عمن اکتسب مالہ من امر السلطان و الغرامات المحرمۃ وغیرذٰلك ھل یحل لمن عرف ذٰلك ان یاکل من طعامہ قال احب الی فی دینہ ان لا یاکل ویسعہ حکما ان لم یکن غصبا [2]او رشوۃ اھ و ھکذا فی الھندیۃ عن المحیط عن الفقیہ ابی جعفر و حاشیۃ السیدی الحموی علی الاشباہ من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام وکون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونہ من الحلال المغلوب و الاصل الحل[3] اھ۔ |
اور اسی میں ہے کہ اگر لینے والا یہ نہ جانے کہ وہ لی ہوئی چیز دینے والے کے اپنے مال سے ہے یا کسی دوسرے کے مال سے ہے تو پھر وہ حلال ہے حتی کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ حرام ہےاھ،فتاوٰی شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے کہ امام ابوجعفر سے اس آدمی کے متعلق پوچھاگیا کہ جو امرسلطان سے مال کماتاہے اور اس میں حرام وغیرہ جرمانے بھی شامل ہوتے ہیں لہٰذا جو شخص ان معاملات کو جانتا پہچانتاہو کیا اس کے لئے حلال ہے کہ وہ اس کا کھاناکھائے،تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے دین کے معاملے میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ وہ نہ کھائے،اور اس کے لئے اس بات کی حکمًا گنجائش ہے اگر وہ غصب یارشوت نہ ہو اھ،اسی طرح فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے فقیہ ابوجعفر سے روایت ہے الاشباہ والنظائر پرسیدحموی کے حاشیہ میں ایك قاعدہ مذکور ہے کہ جب حلال اور حرام جمع ہوجائیں تو حرام غالب ہوگا اور بازار میں حرام کا غالب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ جو چیز خریدی گئی وہ حرام ہو اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ خریدی ہوئی چیز حلال مغلوب ہو حالانکہ حِل اصل ہے اھ(ت) |
علماء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا نہیں یقینی اکل حلال خالص آج کل حکم عنقا کا رکھتاہے،غنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچ جائے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع