30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لعدم الملک۔ |
میں کہ جس میں خباثت پائی جائے ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے۔(ت) |
پھربھی اگر لے لے گا تو رنڈی اپنے افعال پر ماخوذ ہے،یہ خریدی ہوئی چیز نہ اس کے حق میں حرام کہی جائے گی نہ اس لینے والے کے حق میں،
|
لان جمہور ائمتنا المتاخرین افتوا بقول الامام الکرخی المفصل بالتفصیل المذکور رفقا بالمسلمین نظرا الی حال ھذا الزمان الفاشی فیہ الحرام بل منھم من زعم حل الابدال مطلقا فیما لایتعین بالتعین فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ والوالجیۃ الفتوی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرۃ الحرام قال وعلی ھذا مشی المصنف فی کتاب الغصب تبعاللدرروغیرھا[1]اھ وفی فتاوی الامام فخرالدین قاضی خاں اما الذی اشتراہ بالثمن اذا لم یکن الشراء مضافا الی الغصب فظاھر اما الذی اشتراہ بالثمن واضاف العقد الیہ فالعقد لم یقع علی الثمن المشار الیہ فلا یتمکن الخبث فی المبیع [2]اھ،اقول: و ھٰھنا تحقیق و ازاحۃ وھم یعرف بالمراجعۃ الٰی رسالتنا فی اکل الحلال والحرام التی انا فی تالیفھا |
اس لئے کہ ہمارے جمہورائمہ متاخرین نے امام کرخی کے قول پر فتوٰی دیا ہے جو ذکر کردہ تفصیل میں مفصل ہے۔مسلمانوں کی آسانی کے پیش نظر اس زمانہ پر نظر رکھتے ہوئے کہ جس میں حرام زیادہ ہے،بلکہ ان میں سے کچھ وہ ائمہ ہیں جو مطلقًا ابدال کے حلال ہونے کا گمان رکھتے ہیں،اس صورت میں جس میں تعیین کے ساتھ شَے متعین نہ ہو،ردالمحتار میں تتارخانیہ اور ولوالجیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ آج کے زمانے میں امام کرخی کے قول پر فتوٰی ہے دفع حرج کے لئے کثرت حرام کی وجہ سے،اس نے کہا کہ مصنف نے کتاب الغصب میں یہی روش اختیار کی ہے درر وغیرہ کا اتباع کرتے ہوئے اھ،اور فتاوی امام فخرالدین قاضیخان میں ہے لیکن اگر اس نے کسی چیز کو ثمن سے خریدا بشرطیکہ اس اشتراء کی اضافت غصب کی طرف نہ ہو تو اس کا حکم ظاہرہے لیکن اگر اس نے ثمن سے چیز خریدی اور عقد کی اضافت اس کی طرف کی تو پھر عقد،ثمن مشار الیہ پر واقع نہ ہوا تو مبیع میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع