30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الخانیۃ الرجل اذا کان مطربا مغنیا ان اعطی بغیر شرط قالوایباح لہ ذٰلك و ان کان یاخذہ علٰی شرط،ردالمال علی صاحبہ ان کان یعرفہ وان لم یعرفہ یتصدق بہ [1] اھ قلت والمسئلۃ منقولۃ عن محرر المذھب،اثرھا فی الھندیۃ عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد وعنھا نقل فی ردالمحتار قال ومثلہ فی المواھب۔ |
فتاوٰی قاضی خان میں ہے جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اور اس کو بغیر کسی شرط کے کچھ دیاگیا تو فقہاء کرام نے اس کو مباح قرار دیاہے لیکن اگر اسے پہچانتا نہیں تو پھر اسے خیرات کردے اھ،میں کہتاہوں یہ مسئلہ صاحب مذہب سے یعنی مذہب قلم بند کرنے والے سے منقول ہے جس کو فتاوٰی عالمگیری میں"المنتقٰی"کے حوالے سے ابراہیم نے امام محمد سے نقل کیاگیاہے اور اسی سے فتاوٰی شامی میں نقل کیاگیاہے اور اس نے کہاہے کہ المواہب میں اسی کی مثل مذکور ہے۔(ت) |
اقول:مگر اس قدر تفرقہ ضرور ہے کہ اگر دینے والے نے یہ مال حسب دستور فی الواقع انعام یا بیل کے طور پر دیا تو ہبہ ٹھہرے گا اور اگر اصل مقصود آشنائی بڑھانا اور اپنی طرف لبھانا ہے تو بیشك رشوت قرار پائے گا اور اسی حکم مغصوب میں داخل ہوجائے گا۔
|
فانما الامور بمقاصدھاوانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی[2]۔ |
کاموں کا مدار ان کے مقاصد پرہے،اور اعمال کامدار ارادوں پرہے لہٰذا ہرآدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے ارادہ کیاہے۔(ت) |
اور یہ فرق ملاحظہ قرائن سے معلوم ہوسکتاہے اسی لئے مسموع یوں ہے کہ رنڈی،ڈومنی سے معاذاﷲ جس شخص کو آشنائی ہوتی ہے وہ بلاوجہ بھی حسبِ مقدرت انعام کثیر اور جلد جلد بیل دیتاہے،یونہی بعض دیہات کی رسم سنی گئی ہے کہ نیوتے والے جوبیل رنڈی کودیتے ہیں صاحب خانہ کا قرض سمجھ کر دیاجاتاہے اور وہ اس اجرت مقررہ پر مجرا لیتاہے تو یہ بیل درحقیقت بیل نہیں بلکہ وہی اجرت ہے اور مغصوب میں داخل لان المعھود عرفا کالمذکورا لفظًا(اس لئے کہ"معہود"رواج میں مذکور کی طرح ہے۔ت)غرض ان صورتوں سے پاك ہو تو بیشك انعام اور بیل کا روپیہ ان کی ملك خاص ہے اور انہیں خود اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع