30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رحمہ اﷲ تعالٰی فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ[1] الخ وفی حظر ردالمحتار عن السغناقی عن بعض المشائخ کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل اخذہ [2] اھ۔ |
سے مروی ہے کہ گانے والی عورت کی کمائی سے اگر قرض ادا کیاجائے تو قرض خواہ کو اس کا لینا جائزنہیں الخ۔ردالمحتار بحث ممنوعات میں امام سغناقی نے بعض مشائخ کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ گو یا مغنیہ کی کمائی غصب شدہ چیز کی طرح ہے لہٰذا اس کا لینا جائزنہیں اھ(ت) |
اسی طرح اُن کے آشنا جو مال بطور تحفہ وہدیہ ان کے راضی رکھنے یا ان کا دل اپنی طرف مائل کرنے کو دے آتے ہیں اگر چہ اس وقت خالی ملاقات کو جائیں اور زنا یا غنا کچھ مقصود نہ رکھیں اس کابھی یہی حکم ہے کہ وہ رشوت ہے اور نڈیاں اس کی مالك نہیں ہوجاتیں اس کا واپس دینا بھی واجب ہے۔
|
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار آثرا عن القنیۃ مقرا علیہ،مایدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردہ ولا تملك [3]اھ۔ |
حاشیہ طحطاوی بردرمختار میں علامہ طحطاوی نے مصنف قنیہ کے کلام کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے نقل کیاہے کہ عاشق معشوق کو جو کچھ بطور رشوت دے اور اس کے حوالے کرے تو اس کا واپس کرنا ضروری ہے اس لئے کہ معشوقہ اس کی مالك نہیں اھ۔(ت) |
اگرلینے والے کو معلوم ہوگا کہ یہ مال بعینہٖ وہی ہے انہوں نے گانے،ناچنے،زنا کی اُجرت یا آشناؤں سے تحفہ ہدیہ رشوت میں پایا ہے تو اسے لینا ہرگز روانہیں۔اور وہ مال جو انہیں گانے ناچ مجلے میں انعام بلا شرط یعنی اُجرت مقررہ سے زیادہ ملتاہے ان کے حق میں حکم ہبہ کا رکھتاہے کہ وہ عقد اجارہ باطلہ جو ان افعال محرمہ پر ہوا یہ مال اس کے تحت میں داخل نہیں بلکہ بہت لوگ بطور خوشنودی کچھ اپنی ناموری کے خیال سے بعض جاہل یہ سمجھ کر کہ ایسے مقامات پر انعام دینا شان ریاست ہے دیاکرتے ہیں تو وہ اس مال کی مالك ہوگئیں،اسی طرح ڈومنیوں کو جو بیل ملتی ہے اس کابھی یہی حکم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع