30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو بیشك مہندی کی آمیزش کام دیتی اب کہ مطلقًا سیاہ رنگ کو حرام فرمایا تو جب تك اس قدرمہندی نہ ملے جونیل پرغالب آجائے اور اس کی سیاہی کو دور کردے کیاکام دے سکتی ہے کہ وجہ حرمت یعنی بالوں کی ظلمت اب بھی باقی،اور وہ جو حدیث میں وارد کہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ حناوکتم سے خضاب فرماتے ہرگز مفید نہیں کہ بتصریح علماء وہ خضاب سیاہ رنگ نہ دیتا تھا بلکہ سرخی لاتا جس میں سیاہی کی جھلك ہوتی،سرخ رنگ کا قاعدہ ہے جب نہایت قوت کو پہنچتا ہے ایك شان سیاہی کی دیتاہے ایسا خضاب بلاشبہ جائز بلکہ محمود جس کی تعریف صحیح حدیث میں خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول رواہ احمد والاربعۃ[1]وابن حبان عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ(امام احمد اور دیگر چارمحدثین اور ابن حبان نے اس کو حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیاہے۔ت)شیخ محقق نوراﷲ مرقدہ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
بصحت رسیدہ است کہ امیرالمومنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ خضاب می کرد بحنا وکتم کہ نام گیا ہے ست لیکن رنگ آں سیاہ نیست بلکہ سُرخ مائل بسیاہی ست[2]۔ |
صحیح طور پر یہ بات ہم تك پہنچی کہ امیرالمومنین ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مہندی اور کتم(وسمہ)سے خضاب استعمال کیا،کتم ایك گھاس کانام ہے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے۔(ت) |
اسی کے قریب علامہ قاری نے جمع الوسائل شرح شمائل شریف ترمذی اور امام احمد قسطلانی نے ارشاد الساری شرح صحیح بخاری شریف میں تصریح فرمائی اور قولِ راجح وتفسیرِ جمہور پر کتم نیل کانام بھی نہیں بلکہ وہ ایك اور پتی ہے کہ رنگ میں سرخی رکھتی ہے شکل میں برگِ زیتون سے مشابہ ہوتی ہے جسے لوگ حنا یا نیل سے ملا کر خضاب بناتے ہیں۔
[1] سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۲۲،جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی الخضاب امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۸،سنن النسائی کتاب الزینۃ الخضاب بالحناء والکتم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۷۷،مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر المکتب الاسلامی بیروت ۵/۱۴۷،۱۵۰،۱۵۴،مواردالظمآن کتاب اللباس باب تغییر الشیب المطبعۃ السلفیۃ ص۳۵۵
[2] اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع