30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیاہ خضاب مطلقًا حرام ہے اور سیاہ مقول بالتشکیك نیلا،اودا،کاسنی سب سیاہ ہے اور بفرض غلط سیاہ نہ ہو تو قریب سیاہ قطعا ہے اور حدیث صحیح کاارشاد ہے:
|
لاتقربوا السواد،رواہ الامام احمد[1] عن انس رضی اﷲ عنہ۔ |
سیاہی کے پاس نہ جاؤ(اس کو امام احمد نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
اور حدیث ابوداؤد ونسائی میں کبوتر کے پوٹے سے تشبیہ بھی اسی طرف ناظر،جنگلی کبوتروں کے پوٹے اکثر نیلگوں ہوتے ہیں۔ خاص مہندی کی رنگت گہری نہیں ہوتی جب اس میں کچھ پتیاں نیل کی ملادی جائیں تو سرخ گہرا رنگ ہوجاتاہے یہ حسن ہے نہ یہ کہ اتنا نیل ملا دیا جائے کہ سیاہ کردے،یا پہلے مہندی سے رنگ کر جب بال خوب صاف ہوگئے اس پر نیل تھوپاکہ یہ سب وہی حرام صورتیں ہیں جن کو اجتنبوا(سیاہی سے بچو۔ت)فرمایا،لایجدون رائحۃ الجنۃ(وہ لوگ جنت کی خوشبو نہ پائیں گے۔ت) فرمایا:جس پر سود اﷲ وجہہ(اﷲ تعالٰی ان کے چہرے سیاہ کردے گا۔ت)آیا۔شراب کہ خلط نمك سے سرکہ ہوجائے نہ یہ کہ گھڑے بھر شراب میں نمك کی ایك کنکری ڈال کر پی جائے نہ یہ کہ بہت سانمك پھانك کر اوپر سے شراب چڑھائے، تحریم سواد سے صرف مباشران جہاد کا استثناء ہے جیسے اون کو ریشم کا بانا،اور صاحبین کے نزد یك خالص ریشمیں روا ہیں،اور زوجہ جوان کی غرض سے ایك روایت مرجوحہ میں جواز آیا ہے اور مرجوح پر حکم فتوٰی جہل وخرق اجماع ہے۔ امام محمد علیہ الرحمۃ فتاوٰی ذخیرہ میں فرماتے ہیں:
|
الخضاب بالسواد للغز ولیکون اھیب فی عین العدو محمود باتفاق وان فعل ذٰلك لیزین نفسہ للنساء فمکروہ علیہ عامۃ المشائخ [2]۔ |
جہاد میں سیاہ خضاب کی اجازت ہے تاکہ دشمن کی نگاہ میں بارعب اور خوفناك ہوجائے اوریہ بالاتفاق اچھا ہے۔اور اگر اپنے آپ کو عورتوں کے لئے زیب وزینت دے تویہ مکروہ ہے اور اسی پر عام مشائخ قائم ہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع