30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۹۳: ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحدمتھراوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو زیبائش وآرائش کے لئے مسی سیاہ لگانا یا دانتوں کے گرجانے کے خوف سے سیاہ مسی لگانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
مسی کسی رنگ کی ہو عورتوں کو علاج دنداں یا شوہر کے واسطے آرائش کے لئے مطلقًا جائز بلکہ مستحب ہے۔صرف حالت روزہ میں لگانا منع ہے۔
|
فی الدرالمختار کرہ مضغ علك ابیض ممضوغ ملتئم والا فیفطر وکرہ للمفطرین الا فی الخلوۃ بعذروقیل یباح ویستحب للنساء لانہ سوا کھن [1] فتح فی رد المحتار قیدہ بذٰلك لان الاسود وغیرہ الممضوغ وغیر الملتم یصل منہ شیئ الی الجوف [2]الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے سفید گوند کہ جس کے باہم اجزاء ملے ہوئے ہوں اور جو چبائی ہوئی ہو مگر مزید چبائے جانے کے قابل ہو تو اس کے استعمال یعنی چبانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،غیر روزہ دار کے لئے اس کا استعمال بلاعذر مکروہ ہے البتہ عذر کی وجہ سے خلوت میں اس کا چبانا مکروہ نہیں،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مباح ہے اور مستورات کے لئے اس کا استعمال مستحب ہے اس لئے کہ یہ ان کی مسواك ہے فتح القدیر،فتاوٰی شامی میں ہے کہ مصنف نے اس کو چند شرائط کے ساتھ مشروط یا مقید (اسود،غیر ممضوغ(چبایا ہوا نہ ہو)غیر ملتئم(اجزاء باہم پیوستہ نہ ہوں)اس لئے کہ غیر موصوفہ کے ہونے کی صورت میں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ پیٹ میں چلا جاتاہے الخ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۹۴: از سرنیان ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳اھ
عورت یا مرد کو سر میں گھی ڈالنا پھوڑے پھنسی پر استعمال کرنا۔
الجواب:
جائز ہے مگر اس کا خیال رہے کہ سر میں بد بو نہ پیدا ہو دھوتا رہے اگر بد بو آنے لگے گی نماز مکروہ ہوگی،اور مرد کو مسجد میں جانے جماعت میں شریك ہونے سے محروم ہونا پڑے گا،اور یہ جائز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع