30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلاکسی وجہ موجہ کےوسمہ کرنا یا کسی رنگ سے رنگنا جائز ہے یا گناہ؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
تنہامہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایك گھاس مشابہ برگ زیتون ہے جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتر،اور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقًا حرام ہے۔مگر مجاہدین کو۔سنن ابی داؤد میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے:
|
مر علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما احسن ھذا قال فمراٰخرقد خضب بالحناء و الکتم فقال ھذا احسن من ھذا ثم مراٰخر قد خضب بالصفر فقال ھذا احسن من ھذا کلہ [1]۔ |
یعنی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ایك صاحب مہندی کا خضاب کئے گزرے فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا فرمایا:یہ اس سے بہتر ہے،پھر تیسرے زرد خضاب کئے گزرے فرمایا:یہ ان سب سے بہتر ہے۔ |
معجم کبیر طبرانی ومستدرك میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہی زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اہل اسلام کا اور سیاہ خضاب کافروں کا ہے۔ں:
|
الصفرۃ خضاب المومن والحمرۃ خضاب المسلم والسواد خضاب الکافر [2]۔ |
زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اہل اسلام کا اور سیاہ خضاب کافروں کا ہے۔ |
امام احمد مسند اور ابوداؤد ونسائی وابن حبان وحاکم وضیا اپنی اپنی صحاح اور بیہقی سنن میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع