30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیز ابوداؤد ونسائی کی حدیث میں بعض صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
|
نھانا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یمشط احدناکل یوم [1]۔ |
ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص روز کنگھی کرے۔ |
مقصود احادیث ترفہ وتنعم کی کثرت اور تزئین وتحسین بدن میں انہماك سے نہیں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مرد کو زنانہ طو پر سنگار اور کنگھی چوٹی میں مشغول نہ چاہئے۔مرقاۃ میں امام ولی الدین عراقی سے ہے:
|
ھو نھی تنزیہ لا تحریم والمعنی فیہ انہ من باب الترفۃ وتنعم فیجتنب [2]۔ |
یہ نہی تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی اور اس کا معنی یہ ہے یہ آسودگی اور خوشحالی کے باب سے ہے لہذا اس کام سے پرہیز کرے۔(ت) |
اور جہاں پر نیت ذمیمہ نہ ہو بلکہ بہ نیت صالحہ مثل علاج وغیرہ دن میں کئی بار کنگھی کرے کوئی حرج وکراہت نہیں،
امام مالك مؤطا میں ابوقتادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی:
|
ان لی جمۃ أفارجلھا۔ |
میرے بال شانوں تك ہیں کیا میں انھیں کنگھی کروں ؟ |
فرمایا:نعم واکرمھا ہاں اور ان کی عزت کر۔
|
قال فکان ابوقتادہ ربما دھنھا فی الیوم مرتین لما قال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم [3]۔ |
یعنی ابوقتادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اکثر دن میں دو بار بالوں یں تیل ڈالتے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرما دیا تھا ہاں اور ان کی عزت کر،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۹۲: ۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ داڑھی وغیرہ پر مرد کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع