30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
عورتوں کو نتھ یا بلاق کے لئے ناك چھیدنا جائز ہے جس طرح بالوں،بالیوں،کان کے گہنوں کے لئے کان چھیدنا،
|
فی الدرالمختار لاباس بثقب اذن البنت استحسانا ملتقط وھل یجوز فی الانف لم ارہ [1]ملخصا قال العلامۃ الطحطاوی قلت وان کان مما یتزین النساء بہ کما ھو فی بعض البلاد فھو فیھا کثقب القرط وقال العلامۃ السندی المدنی قد نص الشافعیہ علی جوازہ اھ نقلھما العلامۃ الشامی [2] واقر اقول: ولاشك ان ثقب الاذن کان شائعا فی زمن النبی صلی تعالٰی علیہ وسلم وقد اطلع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولم ینکرہ ثم لم یکن الا ایلاماللزینۃ فکذا ھذا بحکم المساواۃ فثبت جوازہ بدلالۃ النص المشترك فی العلم بھا المجتہدون وغیرھم کما تقرر فی مقررہ۔ |
درمختار میں ہے کہ لڑکی کے کان چھیدنے میں بطور استحسان کوئی مضائقہ نہیں کیا ناك چھیدنا بھی جائز ہے۔میں نے اس کو نہیں دیکھا،لیکن علامہ طحطاوی نے فرمایا کہ میں کہتاہوں کہ اگر یہ کام عورتوں کی زیبائش میں شامل ہے جیسا کہ بعض شہروں میں رواج ہے تو پھر یہ بالیوں کے لئے کان چھید نے کی طرح کا عمل ہے۔اور علامہ سندھی مدنی نے فرمایا شوافع نے اس کے جائز ہونے کی تصریح کی ہے۔ان دونوں باتوں کو علامہ شامی نے نقل کرنے کے بعد برقراررکھا ہے۔میں کہتا ہوں اس میں کچھ شك نہیں کہ کان چھیدنا حضور صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم کے عہد مبارك میں متعارف اور مشہور تھا اور حضور پاك صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پر اطلاع پائی مگر ممانعت نہیں فرمائی،یہ دکھ پہنچانا صرف زیب وزینت کے لئے ہوگا،اور اس طرح یہ بھی ہے کیونکہ دونوں کا حکم مساوی ہے۔ پس اس کا جائز ہونادلالت نص کی بنیاد پر ثابت ہوگیا اس علم سے جس میں مجتہد وغیر مجتہد مشترك ہیں جیسا کہ یہ بات اپنے محل میں ثابت ہوچکی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع