30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المنقول شرعا ولا یجوز اعتقاد شرعیۃ غیر ھذہ لفصل فی الاذان والا قامۃ کالتشھد بالولایۃ لعلی [1] اھ ملخصا۔ |
ان کے سوا اذان اور اقامت فـــــ۱ میں اور کسی کو مشروع جاننا جائز نہیں جیسے اشھد ان علیا ولی اﷲ اھ ملخصًا۔ |
سند امر دوم:اسی مدارك میں ہے:
|
الاذان سنۃ متلقاۃ من الشارع کسائر العبادات فیکون الزیادۃ فیہ تشریعا محرما کما یحرم زیادۃ "ان محمد والہ خیر البریۃ"فان ذٰلك وان کان من احکام الایمان الا انہ لیس من فصول الاذان [2]۔ |
اذان ایك سنت ہے جسے شارع(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)نے تعلیم فرمایا مثل اور عبادتوں کے تو اس میں کوئی لفظ بڑھانا اپنی طرف سے نئی شریعت فـــــ۲ ایجاد کرنا ہے اور یہ حرام ہے جیسے "ان محمد والہ خیر البریہ"کا بڑھانا حرام ہوا کہ یہ اگر چہ احکام ایمان سے ہے مگر اذان کے کلمات سے نہیں۔ |
اسی میں ہے:
|
الاذان عبادۃ متلقاۃ من صاحب الشرع فیقتصر فی کیفیتھا علی المنقول والروایات المنقولۃ عن اھل البیت علیھم السلام خالیۃ عن ھذا اللفظ فیکون الاتیان بہ تشریعا محرما [3]۔ |
اذان ایك عبادت ہے کہ صاحب شرع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سیکھی گئی تو اس کی کیفیت میں اسی قدر اقتصار کیا جائے جس قدر شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منقول ہے اور حضرات اہل بیت کرام علیہم السلام سے جو روایتیں منقول ہوئیں وہ اس لفظ سے خالی ہیں تو اس کا بڑھانا نئی شریعت تراشنا ہوگا کہ حرام ہے۔ |
سند امر سوم:شیخ صدوق شیعہ ابن بابویہ قمی کہ ان کے یہاں کے اکابر مجتہدین وارکان مذہب سے ہے۔کتاب من لایحضرہ الفقیہ کے باب الاذان والاقامۃ للمؤذنین میں لکھتا ہے:
|
روی ابوبکرن الحضر می وکلیب ن الاسدی عن ابی عبد اﷲ علیہ السلام انہ حکی لھما الاذان فقال اﷲ اکبراﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ |
ابوبکر حضرمی وکلیب اسدی حضرت ابوعبداﷲ علیہ السلام سے روای کہ اس جناب نے ان کے سامنے اذان یوں کہہ کر سنائی اﷲ اکبر ۴ |
فـــــ ۱:بعض ائمہ روافض کی تصریح کہ اذان میں اشھدان علیا ولی اﷲ یا اس کے مثل کہناجائز ہے اور اذان میں اس کی مشروعیت کا اعتقاد باطل ہے۔
فـــــ۲:بعض پیشوا یان کی تصریح کہ ۱۸ کلمات منقولہ اذان سے کوئی کلمہ بڑھانا نئی شریعت گھڑنا ہے اور یہ حرام ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع