30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوم: میں تفصیل ہے اگر پلیٹوں میں نجاست ہے تو حروف وکلمات کا ان میں بھرنا مطلقًا ممنوع ہے کہ حرف خود معظم ہیں کما بیناہ فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کردیا ہے۔ت)اور اگر نجاست نہیں یا وہ کوئی خالی جائز آواز بے حروف ہے تو جلسہ فساق میں اسے سننا اہل اصلاح کا کام نہیں کہ انھیں اہل باطل سے اختلاط نہ چاہئے اور اگر تنہائی یا خاص صلحاء کی مجلس ہے تو کوئی وجہ منع نہیں اور یہاں ہمارے وہ مباحث کام دیں گے جونظر اولٰی میں گزرے پھر اگر کسی مصلحت شرعیہ کے لئے ہے جیسے عالم کو اس کے حال پر اطلاع پانے یا قوت اشغال دینے کے واسطے ترویح قلب کے لئے جب تو بہتر ورنہ اتنا ضرور ہے کہ ایك لایعنی بات ہے۔ اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
حسن اسلام المرء ترکہ ما لایعنیہ حدیث صحیح مشھور عن سبعۃ من الصحابۃ منھم الصدیق والمر تضی والحسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ ورواہ الترمذی [1] وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
خوبی اسلام یہ ہے کہ آدمی لایعنی بات نہ کرے(حدیث سات صحابہ سے صحیح اور مشہور ہے ان میں سے بعض یہ ہیں حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی،حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہم،اور ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔(ت) |
یہ بھی اس حالت میں ہے کہ نادرًا ہو عادت ڈالنا اور وقت اس میں ضائع کیا کرنا مطلقًا مکروہ ہوگا۔
|
لحدیث کل شیئ من لہوالدنیا باطل الا ثلثۃ رواہ الحاکم[2] عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی واذ |
اس حدیث کی وجہ سے کہ دنیا کا ہر کھیل سوائے تین کھیلوں کے باطل ہے۔امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایا۔یہ سب کچھ میرے نزدیك ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع