30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی الغناء الذی ہو لھو لان ھذا جدمحض فلا یقرن بصورۃ اللھو [1]۔ |
اس کہنے پر انھیں ڈانٹ دیا اور اس گانے کی طرف لوٹا دیا جو ایك کھیل کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے کہ یہ ایك خالص سنجیدگی ہے لہذا جو چیز صورۃً کھیل ہو اس سے بھی اس کا ملاپ ٹھیك نہیں۔(ت) |
یعنی یہ مصرع حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی تھی کہ خدا کے بتائے سے اصالۃً غیب کا جاننا نبوت ہی کی شان ہے تو حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ اسے صورت لہو میں شامل کیا جائے لہذا اس سے روك دیا وہابیہ اس حدیث کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں اور بات صرف اتنی ہے یہ بھی نہیں سوجھتا کہ اگر نسبت علم امور غیب ہی ناپسند فرماتے تو کن سے،کم فہم عورتوں سے اور وہ بھی لڑکیاں کہ منجر بمعنی ناجائز نہ ہو اورجب مرد عقل مالك بن عوف ہوازنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنا قصیدہ نعتیہ حضور میں عرض کیا ہے جس میں فرمایا: ع
ومتی تشاء یخبرك عما فی غد [2]
تو جب چاہے یہ نبی تجھے آئندہ کی باتیں بتادیں
ان پر کیوں نہ انکار فرمایاحالانکہ انھوں نے تو ان لڑکیوں سے بہت زیادہ کہا جس سے قیامت تك کے کل غیبوں کا بالفعل حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو معلوم ہونا یا کم از کم ان کا جان لینا حضور کے اختیار میں دےدیا جانا ظاہر جس کی تشریح ہم نے اپنی کتاب"الامن والعلی لنا عتی المصطفٰی بدافع البلا ۱۳۱۱ھ "میں ذکر کی انکار فرمانادرکنار حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس قصیدہ کے صلہ میں ان کے لئے کلمہ خیر فرمایا اور انھیں خلعت پہنایا اور انھیں ان کی قوم ہوازن وقبائیل ثمالہ وسلمہ وفہم پر سردار فرمایا:
|
کما رواہ المعانی فی الجلیس والا نیس بطریق الحرمازی عن ابی عبیدۃ بن الجراح رضی اﷲ تعالٰی عنہ وابن اسحاق عن ابی وجزۃ یزید بن عبید السعدی۔ |
جیسا کہ معانی نے اس کو جلیس وانیس میں حرمازی کے طریق پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ابن اسحق نے ابی وجزہ یزید بن سعدی سے اسے روایت کیا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع