30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قد رأینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ضحی بکبشین موجوئین وھما المرضوضان خصاھما والمفعول بہ ذٰلك قد انقطع ان یکون لہ نسل فلو کان اخصاؤھما مکروھا اذا لما ضحی بھما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[1]۔ |
بیشك ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دو خصی مینڈھوں کی قربانی کی یعنی وہ دو ایسے دنبے تھے کہ جن کے دونوں خصیے کو فتہ تھے۔اور جس کے ساتھ یہ برتاؤ کیا جائے اس کی نسل ختم ہوجاتی ہے۔اگر دنبوں کو خصی کرنا مکروہ ہوتا تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام ایسے مکروہ جانورں کی کبھی قربانی نہ کرتے۔(ت) |
اسی کے باب انزاء الحمیر علی الخیل میں ہے:
|
لوکان مکروہا لکان رکوب البغال مکروھا لانہ لو لا رغبۃ الناس فی البغال ورکوبھم ایاھا لما انزئت الحمیر علی الخیل [2]۔ |
گدھوں کا گھوڑی سے جفتی کرانا،اگر یہ مکروہ ہوتا تو ضرور خچروں پر سوار ہونا مکروہ ہوتا۔اس لئے کہ اگر لوگوں کی خچروں کی طرف اور ان کی سواری کی طرف رغبت نہ ہوتی تو کبھی گدھوں سے گھوڑی پر جفتی نہ کرائی جاتی۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
لاباس باخصاء البھائم وانزاء الحمیر علی الخیل وقد صح ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رکب البغلۃ فلو کان ھذا الفعل حرام لما رکبھا لما فیہ من فتح بابہ [3]۔ |
چوپایوں کے خصی کرنے میں اور گدھو ں سے گھوڑی پر جفتی کرانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے صحیح روایت میں یہ آیا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم خچر پر سوار ہوئے ہیں اگر یہ کام حرام ہوتا تو آپ کبھی خچر پر سوار نہ ہوتے کیونکہ اس میں برائی کا دروازہ کھلتا ہے۔(ت) |
اسی باب سے ہے کہ قوی تندرست قابل کسب جو بھیك مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیك مانگنا حرام ہے اور ان کودینے میں اس حرام پرمدد،اگر لوگ نہ دیں تو جھك ماریں اور کوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع